کیا شوہر اپنی بیوی کو حکم کر سکتا ہے کہ وہ اپنی چہرہ کا پردہ نہ کرے ؟ لیکن وہ اس کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ اپنے باقی سارے بدن کا پردہ کر لے ۔یہ وہ اس لیے حکم دیتا ہے کہ: اس کو شک ہے کہ بیوی کا شادی کے علاوہ بھی تعلق ہے اور ڈرتی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو جائے، اگر وہ اپنے چہرہ کو ڈھانپ کر نہ جائے گی۔ خاص طور پر نصیحت فرمائیں کہ خاوند اپنی بیوی کو حکم دے سکتا ہے کہ وہ اپنے چہرہ کو نہ ڈھانپے، جب وہ اس کے ساتھ باہر جائے کیونکہ وہ خاوند اس کے تاثرات جاننا چاہتا ہے۔
واضح رہے کے عورت کو چہرہ کا پردہ خوف فتنہ کی وجہ سے واجب لغیرہ ہے، اس لئے غیر محارم کے سامنے چہرہ کھلا رکھنے سے احتراز لازم ہے ، لہذا کسی مرد کا اپنی بیوی کو غیر محارم کے سامنے چہرہ کھلا رکھنے کا حکم کرنا گناہ کی بات ہے، جس سے احتراز لازم ہے ، جبکہ بیوی پر ایسے حکم کی تعمیل بھی واجب نہیں۔
کما فی کتاب الله تعالى : {يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ } [الأحزاب: 59]
و في التفسير المظهري: قلت يعنى اذن لكن ان تخرجن متجلببات قال ابن عباس وابو عبيدة امر نساء المؤمنين ان يغطين رؤسهن ووجوههن بالجلابيب الا عينا واحدا اھ (7/ 384)
و في سنن الترمذي: عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان» (3/ 468)
و في الدر المختار: (وللحرة) ولو خنثى (جميع بدنها) حتى شعرها النازل في الأصح (خلا الوجه والكفين) فظهر الكف عورة على المذهب (والقدمين) على المعتمد، وصوتها على الراجح وذراعيها على المرجوح (وتمنع) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) اھ (1/ 405)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة اھ (1/ 406)
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0