کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام !اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ملک میں حکومت کی طرف سے حجاب (چہرہ چھپانے پر) پابندی ہے ،جس پر حکومت کی طرف سے جرمانہ بھی عائد ہوتا ہے، جبکہ ہمارے مدرسہ میں دو ہزار طالبات زیرِ تعلیم ہیں، ابھی تقریباً ایک ہفتہ پہلے بس اسٹیشن میں ہمارے مدر سہ کی کچھ طالبات پر چہرہ چھپانے کی وجہ سے حکومت نے جرمانہ بھی لگا یا، اور مدرسہ میں آکر ہمیں دھمکی بھی دی کہ اگر آئندہ طالبات نے چہرہ چھپایا، تو ہم مدرسہ کو سیل کر دینگے، اور جرمانہ بھی لگا دیں ، لہذا ہمیں اب اس بارے میں رہنمائی چاہیے کہ کیا ہم (اساتذہ) از خود طالبات کو چہرہ کھلا رکھنے کا حکم دے سکتے ہیں یا نہیں ؟
اسلام میں عورت کے لیے حجاب و پردہ کا حکم ایک واضح شرعی فریضہ ہے، جس کا مقصد عورت کی عفت، حیا، وقار اور تحفظ کو یقینی بنانا ہے، بالخصوص چہرے کا پردہ (نقاب) زمانۂ فتنہ میں فقہاءِ احناف کے نزدیک واجب کے قریب درجہ رکھتا ہے، جیسا کہ علامہ شامیؒ نے رد المحتار (2/ 527) میں صراحت کی ہے۔
البتہ اگر کسی ملک میں حالات ایسے پیدا ہو جائیں کہ حکومت کی طرف سے نقاب (چہرہ چھپانے) پر باضابطہ پابندی عائد کر دی جائے، اور اس کی خلاف ورزی پر طالبات، یا ادارے کے خلاف قانونی کاروائی، جرمانہ یا بندش جیسے حقیقی خطرات لاحق ہوں، تو ایسی اضطراری حالت میں شریعتِ مطہرہ کے اصول "الضرورات تبيح المحظورات" کے تحت وقتی اور مشروط گنجائش نکلتی ہے۔
لہٰذا سائل کے ملک میں اگر حکومت کی طرف سے سختی واقعی اس حد تک ہے کہ طالبات پر جرمانہ اور ادارے پر بندش کا خطرہ موجود ہوتو مدرسہ انتظامیہ کو طالبات کے لیےچندضروری شرائط کے ساتھ عارضی طورپر مدرسہ آتے جاتے چہرہ کھلا رکھنے کی اجازت دینے کی گنجائش ہے:
1.طالبات و معلمات دل میں یہ اعتقاد رکھیں کہ نقاب ترک کرنا خوش دلی یا جواز کے طور پر نہیں، بلکہ صرف مجبوری کے تحت ہے۔
2.طالبات کا لباس مکمل پردہ دار، ڈھیلا، غیر جاذبِ نظر اور غیر معطر ہو، تاکہ ستر و حیا کا اصل مقصد برقرار رہے۔
3.چہرے کا مکمل نقاب ممکن نہ ہونے کی وجہ سے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، تاکہ حتی الامکان پردہ کے حکم کوپوراکیاجاسکے۔
o:ڈسٹ ماسک(Dust Mask) یا فیس ماسک (Face Mask)کااستعمال لازمی کیاجائے، تاکہ چہرے کے نچلے حصے کوچھپایاجاسکے۔
o:ٹوپی یا پی کیپ ( P-Cap) پہنی جائے، تاکہ پیشانی و بالوں کے حصے کو چھپاناممکن ہوسکے۔
o:آنکھوں اور چہرے کے اوپری حصے کو پوشیدہ رکھنے کے لیے کالےشیشوںوالی بڑی عینک(Sun Glasses)لگالی جائے ۔
o:جسم کی ساخت چھپانے کے لیے کالر والا کوٹ (Coat ) یا جیکٹ Jacket))پہننے کااہتمام ہو۔
o:ہاتھوں کو چھپانے کے لیےدستانے (Gloves)اورپاؤں کے سترکے لیےجرابیں(Socks) استعمال کرلی جائیں۔
o:کان چھپانے والا آلہ(Headphones) یا (Ear Covers)لگالیاجائے،تاکہ کان و گردن بھی نظر نہ آئیں۔
o:سر، گردن، اور سینے کے حصے کو ڈھانپنے کے لیے چادر یا اسکارف لازمی اوڑھی جائے ۔
4. مدرسہ انتظامیہ طالبات کو ان احتیاطی اشیاء کے استعمال کی ترغیب دے، اور چہرہ کھلا رکھنے کو مکمل بے حجابی کا دروازہ نہ بننے دے،اس کے علاوہ مدرسہ انتظامیہ اپنی جگہ قانونی و اخلاقی طریقے سے حکومت کے سامنے استثنا یا نرمی کی درخواست دیتی رہے ،تاکہ مستقبل میں دوبارہ نقاب اوڑھنے کی آزادی حاصل ہو سکے۔
لہذا صورت مسئولہ میں وقتی طور پر ضروری احتیاط اور حیا و ستر کے دوسرے تمام تقاضوں کو سختی سے برقرار رکھتےہوئے چہرہ کھلا رکھنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے،تاہم اس بات کاخیال رہے کہ یہ رعایت مستقل حکم نہیں، بلکہ عارضی مجبوری کی وجہ سے ہے، جیسے ہی حالات سازگار ہوں، فوراًنقاب اورڑھنا لازم ہوگا۔
كماقال الله تعالي في التنزيل ﵟيَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلمُؤمِنِينَ يُدنِينَ عَلَيهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ،ذَٰلِكَ أَدنَىٰٓ أَن يُعرَفنَ فَلَا يُؤذَينَ،وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا [الأحزاب: 59] ۔
وفي تفسير ابن كثير:ت:السلامة»:وقال محمد بن سيرين: سألت عبيدة السلماني عن قول الله تعالى: {يدنين عليهن من جلابيبهن} ، فغطى وجهه ورأسه وأبرز عينه اليسرى.وقال عكرمة: تغطي ثغرة نحرها بجلبابها تدنيه عليها۔
وقال ابن أبي حاتم: أخبرنا أبو عبد الله فيما كتب إلي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا معمر، عن ابن خثيم، عن صفية بنت شيبة، عن أم سلمة قالت: لما نزلت هذه الآية: {يدنين عليهن من جلابيبهن}خرج نساء الأنصار كأن على رؤوسهن الغربان من السكينة، وعليهن أكسية سود يلبسنها اھ(6/ 482)۔
وفي تفسير الألوسي روح المعاني - ط العلمية» : واختلف في كيفية هذا التستر فأخرج ابن جرير وابن المنذر وغيرهما عن محمد بن سيرين قال: سألت عبيدة السلماني عن هذه الآية يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ فرفع ملحفة كانت عليه فتقنع بها وغطى رأسه كله حتى بلغ الحاجبين وغطى وجهه وأخرج عينه اليسرى من شق وجهه الأيسر، وقال السدي: تغطي إحدى عينيها وجبهتها والشق الآخر إلا العين، وقال ابن عباس وقتادة: تلوي الجلباب فوق الجبين وتشده ثم تعطفه على الأنف وإن ظهرت عيناها لكن تستر الصدر ومعظم الوجه، وفي رواية أخرى عن الحبر رواها ابن جرير، وابن أبي حاتم وابن
مردويه تغطي وجهها من فوق رأسها بالجلباب وتبدي عينا واحدة۔
وأخرج عبد الرزاق وجماعة عن أم سلمة قالت: لما نزلت هذه الآية يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ خرج نساء الأنصار كان على رؤوسهن الغربان من السكينة وعليهن أكسية سود يلبسنها۔
وأخرج ابن مردويه عن عائشة قالت: رحم الله تعالى نساء الأنصار لما نزلت يا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْواجِكَ وَبَناتِكَ الآية شققن مروطهن فاعتجرن بها فصلين خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم كأنما على رؤوسهن الغربان۔
ومن للتبعيض ويحتمل ذلك على ما في الكشاف وجهين، أحدهما أن يكون المراد بالبعض واحدا من الجلابيب وإدناء ذلك عليهن أن يلبسنه على البدن كله، وثانيهما أن يكون المراد بالبعض جزءا منه وإدناء ذلك عليهن أن يتقنعن فيسترن الرأس والوجه بجزء من الجلباب مع إرخاء الباقي على بقية البدن، والنساء مختصات بحكم العرف بالحرائر وسبب النزول يقتضيه وما بعد ظاهر فيه فإماء المؤمنين غير داخلات في حكم الآية.» (11/ 264)۔
وفي فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي: واعلم أنه لا ملازمة بين كونه ليس عورة وجواز النظر إليه، فحل النظر منوط بعدم خشية الشهرة مع انتفاء العورة ولذا حرم النظر إلى وجهها ووجه الأمرد إذا شك في الشهوة ولا عورة۔
وفي كون المسترسل من شعرها عورة روايتان. وفي المحيط الأصح أنه عورة وإلا جاز النظر إلى صدغ الأجنبية وطرف ناصيتها وهو يؤدي إلى الفتنة وأنت علمت أنه لا تلازم بينهما كما أريتك في المثال. (1/ 259)۔
وفي الدر المختار : (والمرأة) فيما مر (كالرجل) لعموم الخطاب ما لم يقم دليل الخصوص (لكنها تكشف وجهها لا رأسها؛ ولو سدلت شيئا عليه وجافته عنه جاز) بل يندب(قوله وجافته) أي باعدته عنه. قال في الفتح: وقد جعلوا لذلك أعوادا كالقبة توضع على الوجه ويسدل من فوقها الثوب اھ۔
وفی الشامیة تحت (قوله جاز) أي من حيث الإحرام، بمعنى أنه لم يكن محظورا لأنه ليس بستر وقوله بل يندب: أي خوفا من رؤية الأجانب.وعبر في الفتح بالاستحباب، لكن صرح في النهاية بالوجوب ۔
وفي المحيط: ودلت المسألة على أن المرأة منهية عن إظهار وجهها للأجانب بلا ضرورة لأنها منهية عن تغطيته لحق النسك لولا ذلك، وإلا لم يكن لهذا الإرخاء فائدة اهـ ونحوه في الخانية.
وفق في البحر بما حاصله أن محمل الاستحباب عند عدم الأجانب. وأما عند وجودهم فالإرخاء واجب عليها عند الإمكان، وعند عدمه يجب على الأجانب غض البصر، ثم استدرك على ذلك بأن النووي نقل أن العلماء قالوا لا يجب على المرأة ستر وجهها في طريقها، بل يجب على الرجال الغض. قال: وظاهره نقل الإجماع. واعترضه في النهربأن المراد علماء مذهبه. قلت: يؤيده ما سمعته من تصريح علمائنا بالوجوب والنهي. [تنبيه]علمت مما تقرر عدم صحة ما في شرح الهداية لابن الكمال من أن المرأة غير منهية عن ستر الوجه مطلقا إلا بشيء فصل على قدر الوجه كالنقاب والبرقع كما قدمناه أول الباب(2/ 527)۔
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0