السلام علیکم ! نصف نقاب کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ کیا کتابوں میں نقاب کی تعریف ہے؟ یہ وہ نقاب ہے جو چہرے کے اوپری آدھے حصے کو نہیں ڈھانپتا یعنی آنکھیں اور پیشانی کو بے پردہ چھوڑ دیتا ہےاور ناک نیچے کی طرف ڈھکی ہوئی ہے ، اگرچہ یہ یقینی طور پر چہرے کو ڈھانپتا ہے، لیکن پیشانی کھلنے پر آنکھوں کی خوبصورتی ایک حد تک بڑھ جاتی ہے ، براہ ِکرم اگر ممکن ہو تو ثبوت دیں کیونکہ مجھے اپنے عہدے کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے ، جزاک اللہ خیرًا ۔
نقاب اس کپڑے کو کہا جاتا ہے جو خواتین ناک اور چہرے پر باندھ کر رکھتی ہیں ، تاکہ اس کے ذریعہ پردہ کر سکیں ،جبکہ فقہی اعتبار سے فقہاء کرام نے فتنہ میں واقع ہونے کے غالب گمان کی وجہ سے چہرے کا پردہ واجب کر دیا ہے ، اور چہرے کا اطلاق سر کے بال اگنے کی جگہ سے لیکر ٹھوڑی کے نیچےتک اور عرضاً دونوں کانوں کے درمیان میں آنے والےمکمل حصہ پر ہوتا ہے ، مگر چونکہ راستہ دیکھنے کی خاطر آنکھیں کھو لنا ناگزیر ہے اس لئے چہرے کے پردے سے صرف آنکھوں کو مستثنی کر دیا گیا ، لہذا سائل کے بیان کردہ نصف نقاب والی صور ت میں چو نکہ مکمل چہرہ کا پردہ نہیں پایا جاتا اس لئے اس طرح کرنے سے اجتناب اور مکمل پردہ کرنا لازم ہے۔
كما في تفسير الطبري : عن ابن عباس، قوله: {يا أيها النبي قل لأزواجك وبناتك ونساء المؤمنين يدنين عليهن من جلابيبهن} [الأحزاب: 59] «أمر الله نساء المؤمنين إذا خرجن من بيوتهن في حاجة أن يغطين وجوههن من فوق رءوسهن بالجلابيب، ويبدين عينا واحدة ( ج 19، ص 181، ط : دار هجر للطباعة و النشر والتوزيع، مصر)-
و في تفسير ابن كثير : وقال محمد بن سيرين: سألت عبيدة السلماني عن قول الله تعالى: {يدنين عليهن من جلابيبهن} ، فغطى وجهه ورأسه وأبرز عينه اليسرى ( ج 6، ص 482، ط : دار طيبة للنشر و التوزيع)-
و في فتح القدير للشوكاني : قال الواحدي: قال المفسرون: يغطين وجوههن ورؤوسهن إلا عينا واحدة ( ج 4 ، ص 349، ط : دار ابن كثير، دمشق)-
و في الدر المختار : (وتمنع ) المرأة الشابة (من كشف الوجه بين رجال) لا لأنه عورة بل (لخوف الفتنة) ( كتاب الصلاة، ج 1، ص 406، ط : سعيد)-
و في رد المحتار : تحت (قوله وتمنع المرأة إلخ) أي تنهى عنه وإن لم يكن عورة (قوله بل لخوف الفتنة) أي الفجور بها قاموس أو الشهوة. والمعنى تمنع من الكشف لخوف أن يرى الرجال وجهها فتقع الفتنة لأنه مع الكشف قد يقع النظر إليها بشهوة ( مطلب في ستر العورة، ج 1، ص 406، ط : سعيد)-
و في المبسوط للسرخسي : وحد الوجه من قصاص الشعر إلى أسفل الذقن إلى الأذنين؛ لأن الوجه اسم لما يواجه الناظر إليه ( كتاب الصلاة، ج 1، ص 6، ط : دار المعرفت، بيروت)-
و في تاج العروس : (و) النقاب، أيضا: (ما تنتقب به المرأة) ، وهو القناع على مارن الأنف، قاله أبو زيد. والجمع نقب. وقد تنقبت المرأة، وانتقبت. وفي التهذيب : والنقاب على وجوه (إلى قوله) إنما كان النقاب لاصقا بالعين، وكانت تبدو إحدى العينين، والأخرى مستورة الخ ( ج 4، ص 298، ط : وزارة الإرشاد و الأنباء في كويت) -
جوائنٹ فیملی میں حجاب و پردے کا حکم- انتقال کے بعد میاں بیوی کے رشتہ کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0مرد ڈاکٹر کا مریض عورتوں کو دیکھنے ،چھونے اور طالبات کو نرسنگ سیکھانے کا حکم
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0غیر محرم کے سامنے بغیر پردہ اور ننگے سر پھرنا گناہ کبیرہ ہے یا صغیرہ؟
یونیکوڈ حجاب کے آداب و احکام 0