میری والدہ کی عمر 59 سال ہے اور وہ عمرہ کرنا چاہتی ہیں ، ان کے انکل کے بیٹے اور ن کی بیوی عمرہ کی ادائیگی کرنے جارہے ہیں، کیا میں اپنی والدہ کو ان کے ساتھ عمرے کے لیے بھیج سکتا ہوں یا نہیں ؟ شریعت میں اس حوالے سے کیا احکامات ہیں؟
عورت خواہ جوان ہو یا بوڑھی، اس کے لیے حج یا عمرہ پر جانے کے لیے محرم کی رفاقت شرط ہے اور چاچا زاد محرم نہیں ہوتا، لہذا سائل کا اپنی والدہ کو انکے چچا زاد کے ساتھ عمرہ پر بھیجنا درست نہیں۔
کما فی صحیح المسلم : عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» اھ (2/975)
و فی الہدایة: ويعتبر فی المرأة أن يكون لها محرم تحج به أو زوج ولا يجوز لها أن تحج بغيرهما إذا كان بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام اھ (1/133)۔