اگر کوئی شخص عمرہ کی طاقت رکھتا ہو، لیکن حج کی نہیں تو کیا وہ عمرہ کے لیے جا سکتا ہے؟ کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں حج فرض ہو جائےگا۔
عمرہ پر جانے سے حج فرض نہیں ہوتا إلا یہ کہ اشہر حج میں عمرہ کرے اور حکومت کی طرف سے حج تک رکنے پر پابندی نہ ہو اور وہ حج تک رکنے کے مصارف بھی براداشت کر سکتا ہو۔
کما فی صحیح البخاری : أخبرنا ابن جريجأن عكرمة بن خالد، سأل ابن عمر رضي الله عنهما، عن العمرة قبل الحج؟ فقال: لا بأس، قال عكرمة: قال ابن عمر: " اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم قبل أن يحج، اھ (3/2)۔
و فی الہندیة: المفرد بالعمرة يحرم للعمرة من الميقات أو قبل الميقات فی أشهر الحج أو فی غير أشهر الحج اھ (1/237)۔
و فیه أیضاً : والمتمتع من يأتي بأعمال العمرة فی أشهر الحج أو يطوف أكثر طوافها فی أشهر الحج ثم يحرم بالحج ويحج من عامه ذلك قبل أن يلم بأهله بينهما إلماما صحيحا هكذا فی فتاوى قاضي اھ (1/238)۔