کیا کوئی شخص جنابت کی حالت میں باہر جاسکتا ہے یا غسل کرنے میں تاخیر کر سکتا ہے؟ جبکہ غسل فرض ہوجائے۔
غسلِ جنابت میں بلا عذر تاخیر مکروہ عمل ہے ، البتہ کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہورہی ہو ، تو غسل تک فقط وضو کرنا بہتر ہے اور بضرورت گھر سے باہر نکلنا بھی جائز ہے ۔
کما فی الدر المختار : (و يكره له قراءة توراة و إنجيل وزبور) لأن الكل كلام الله و ما بدل منها غير معين و جزم العيني في شرح المجمع بالحرمة و خصها في النهر بما لم يبدل (لا) قراءة (قنوت) و لا أكله وشربه بعد غسل يد وفم و لا معاودة أهله قبل اغتساله إلا إذا احتلم لم يأت أهله ، قال الحلبي : ظاهر الأحاديث إنما يفيد الندب لا نفي الجواز اھ(1/ 175)۔