ایک لڑکی جسکی عمر12 برس کے قریب تھی، جبکہ لڑکے کی عمر دس برس کے قریب تھی ان کے والدین نے نکاح پڑھا لیا،جبکہ دونوں نابالغ تھے ،جوان ہونے پر لڑکے نے کسی اور لڑکی سے شادی کرلی ،جبکہ لڑکی کے والدین نے عدالت سے خلع کیلئے رجوع کیا ،عدالت نے لڑکے کو متعدد بار ثمن جاری کیے مگر وہ عدالت حاضر نہیں ہوا ،طلاق کے عوض لڑکا بھاری رقم مانگنے کا مطالبہ کرتا رہا ،عدالت نے لڑکی کے حق میں فیصلہ سنادیا اور خلع جاری کردی ،مہربانی فرماکر فتوی کی روشنی میں فرمائیں کہ کیا لڑکی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے ؟
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جسکی صحت کیلئے فریقین کی باہمی رضا مندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ مذکور خلع میں مفقود ہے، اس عدالتی ڈگری کے باوجود زوجین کا نکاح ختم نہیں ہوا بلکہ بدستور قائم ہے، اگر چاہیں تو دونوں اب بھی میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں تاہم اگر نباہ ممکن نہ ہو تو باقاعدہ خلع یا طلاق کے بعد فریقین اپنے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں، جبکہ لڑکے کا طلاق کے بدلے بھاری رقم کا مطالبہ کرنا غلط ہے، البتہ مہر کی مقدار کے برابر معاوضہ لیکر خلع دینا لڑکے کیلئے بھی جائز ہے۔
کمافي أحكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما الا برضى الزوجين فقال اصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا الا برضى الزوجين لان الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان اھ (2/ 239)۔
فی الشامیة:(قوله: وكره تحريما أخذ الشيء) أي قليلا كان، أو كثيرا. والحق أن الأخذ إذا كان النشوز منه حرام قطعا - {فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20]- إلا أنه إن أخذ ملكه بسبب خبيث اھ (3/445)۔