کیا فرماتے ہیں علماءِ دین اور مفتی حضرات اس مسئلہ پر کہ ایک ضعیف العمر 80 سالہ بیوہ خاتون اگر عمرہ کرنا چاہتی ہے اور اس کے ساتھ عمرہ پر جانے کے لیے اس کا ایک ہی بیٹا ہے اور وہ بھی تیار نہ ہو اس کے بعد اگر وہ کسی دوسرے ایسے 50 سالہ شخص جو اسکا حقیقی بھتیجا تو نہیں ہے، مگر قریبی رشتہ دار ہے اور وہ اسے پھوپھی کہتا ہے اور وہ بھی اسے بھتیجا ہی کہتی ہے اور اس کا بچپن سے ان کے گھر آنا جانا بھی ہے وہ شخص عمرہ پر جائے یایہ خاتون اس شخص کو اپنے ساتھ لے کر جائے کہ یہ اسے وہاں پر وہیل چیئر پر بیٹھا کر عمرہ کے ارکان ادا کروا سکے تو کیایہ ضعیف العمر 80 سالہ بیوہ خاتون اس کے ساتھ عمرہ کرنے کے لیے جاسکتی ہے ؟ یا اگر اس شخص کے ساتھ اسکی اپنی بیٹی اور یہ خاتون بھی دونوں اس عمرہ کے سفر میں ساتھ ہوں تو اس عمرہ کے سفر میں اس شخص پر یا اس ضعیف العمر 80 سالہ بیوہ خاتون پر شرعی طور پر کوئی حرج تو نہیں ہے؟ دینِ اسلام کے اصول کے مطابق اس مسئلہ کی راہنمائی فرمائیں ۔
اسّی سالہ خاتون بھی کسی نامحرم شخص کے ہمراہ عمرہ یا کسی دوسرے سفر پر نہیں جاسکتی ،اس پر لازم ہے کہ کسی محرم کے ساتھ عمرہ کے سفر پر جائے ،تاہم اگر مذکور خاتون کسی نامحرم رشتہ دار کے ساتھ عمرہ پر چلی جائے تو عمرہ ادا ہوجائے گا مگر نامحرم کے ساتھ سفر کرنے کا گناہ لازم ہوگا ۔
کما فی الہندیة : (ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزاإذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط، وإن كان أقل من ذلك حجت بغير محرم كذا في البدائع والمحرم الزوج، ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة ويشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا حرا كان أو عبدا كافرا كان أو مسلما هكذا في فتاوى قاضي خاناھ (1/218)۔
و فی الرد : والسفر لغة قطع المسافة من غير تقدير، والمراد سفر خاص وهو الذي تتغير به الأحكام من قصر الصلاة (الی قوله ) وحرمة الخروج على الحرة من غير محرم ط عن العناية. اھ(2/120)۔