میں نے اپنی پانچ سال کی بیٹی کے ساتھ عمرہ کیا، مگر بیٹی کے ارکان صحیح طرح ادا نہ ہو سکے ، میں نے میقات پر عمرہ کی نیت کروادی تھی ، اور اس نے طواف کے بھی سات چکر پورے کر لیے مگر وہ سعی کے دوران چار چکر کے بعد تھک گئی اور ایک طرف بیٹھ گئی اور سر سے کپڑا بھی ہٹا دیا جو بعد میں پورا نہ ہو سکا، اس کے بال بھی سعی کے بعد نہیں کاٹے اور اسی حالت میں واپس گھر آگئے ، اس سلسلے میں کیا کوئی جرمانہ قضا یادم مجھ پر لازم ہو گا یا نہیں؟
سائل کی نابالغ بچی نے اگر عمرہ کے ارکان پورے نہ کیے ہوں تو اس سے سائل یا بچی پر کسی قسم کا دم یا کفارہ لازم نہیں،تاہم جتنے ارکان ادا کیے ہیں اسکا ثواب مل جائے گا۔
کما فی غنية الناسك : ا اذا احرم لہ ینبغی ان یجنبہ من محظورات الاحرام و لو ارتکب محظورا لا شئی علیہ و یقضی بہ مناسک کلہ احرام الصبی ینعقد غیر لازم فلا یلزامہ المضی فیه اھ (43)۔