عورتوں کو کتنا پانی استعمال کرنا چاہیئے؟ بیت الخلاء میں پاکی حاصل کرنے کیلئے پانی کس طرح استعمال کرنا چاہیئے؟ اور غسل کے پانی کے چھینٹے پاک ہیں یا ناپاک؟
غسل کے پانی کی ادنیٰ مقدار ایک صاع ، جبکہ وضو کے پانی کی ادنیٰ مقدار ایک مد بیان کی گئی ہے ، مگر یہ لازمی مقدار نہیں کہ اس سے کم یا اس سے زیادہ پانی استعمال کرنا جائز نہ ہو ، بلکہ طبیعتوں کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس مقدار میں کمی بیشی بھی ہو سکتی ہے ، لہذا خواتین جتنی مقدارپانی سے پاکی حاصل کرسکتی ہیں اتنا پانی استعمال کرنا ان کیلئے جائز ہے ، جبکہ جسم میں کوئی نجاست نہ لگی ہو تو غسل کے پانی کے چھینٹے لگنے سے جسم یا کپڑا ناپاک نہ ہوگا۔
کما فی الدر المختار : أن المعتمد طهارة الماء المستعمل على أنه لا يوصف بالاستعمال إلا بعد انفصاله عن كل البدن لأنه في الغسل كعضو واحد اھ (1/157)۔
و فی رد المحتار : إجماع المسلمين على أن ما يجزئ في الوضوء و الغسل غير مقدر بمقدار و ما في ظاهر الرواية من أن أدنى ما يكفي الغسل صاع و في الوضوء مد للحديث المتفق عليه (الیٰ قوله) لأن طباع الناس و أحوالهم مختلفة كذا في البدائع اھ (1/158)۔