خلع کی شرعی حیثیت کیا ہے، اگرفیملی کوٹ نے توشوہر کی مرضی کے بغیر خلع دیا ہو اور شوہر کورٹ نوٹس ملنے کے باوجود فیملی کورٹ نہیں گیا ہو ؟
خلع شریعت مطہرہ میں جائز اور قرآن و سنت سے ثابت ہے اور خلع ایک قسم کا عقد ہے جو میاں اور بیوی دونوں کی رضامندی کے بغیر منعقد نہیں ہوتا،تاہم فیملی کورٹ نے جو ڈگری جاری کی ہے اگر اس کی فوٹو کاپی اور اُردو ترجمہ دار الافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ ارسال کر دیں تو اس پر بھی غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کیا جا سکتا ہے ۔
قال الله تعالى : فإن خفتم الایقیماحدود الله فلا جناح عليها فيما افتدت به(البقرہ)
في صحيح البخاري : عن ابن عباس أن امرأة ثابت بن قيس اتت النبی ﷺ فقالت یا رسول اللہ ما أعتب علیه في خلق ولا دين ولكني اكره الكفر الاسلام فقال رسول الله ﷺ اتردين عليه حديقته قالت نعم قال رسول اللہ ﷺ اقبل الحدیقة وطلقھا تطلیقة اھ (2/790)۔
وفي المبسوط : والخلع جائز عند السلطان وغيره لانہ عقد یعتمد التراضي اھ (6/173)۔ واللہ اعلم بالصواب