السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہے کہ کچھ لوگ باتھ روم میں جاتے ہیں اور اگر پیشاب بھی کرکے آئیں تو وہ ہاتھ نہیں واش کرتے (دھوتے) کہ کون سا استنجاء میں استعمال ہوئے ہیں ، اور وہ باتھ ٹب کو کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ استعمال کرتے ہیں کہ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، آپ سے پوچھنا ہے کہ اسلامی نقطہ نظر سے اس کے بارے میں کیا حکم ہے؟
اگرچہ واش روم میں نلکے کے پانی سے ہاتھ دھو کر نکلنے کے بعد دوبارہ دوسرے پانی سے دھونے کی ضرورت نہیں رہتی، تاہم استنجاء کرنے کے بعد وہاں ہاتھ نہ دھوئے ہوں یا ہاتھوں پر کسی قسم کی گندگی کے اثرات ہوں تو اس صورت میں واش روم سے نکلنے کے بعد ہاتھوں کا دھونا ضروری ہے۔
جبکہ باتھ ٹب صاف ستھرا اور اس میں پانی بھی پاک صاف ہو ، تو اس صورت میں اس کے پانی کو کھانے پینے کی ضروریات میں اگرچہ استعمال کرنے کی اجازت ہے، مگر آداب کے خلاف ہونے کی بناء پر اس سے بھی احتراز چاہیۓ۔
قال اللہ تعالیٰ : ﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَ يُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ (البقرة: 222)۔
و فی الدر المختار : و مع طهارة المغسول تطهر اليد ؛ و يشترط إزالة الرائحة عنها و عن المخرج إلا إذا عجز اھ (1/ 345)۔
و فی حاشية ابن عابدين : بأن المختار أن الأصل الإباحة عند الجمهور من الحنفية و الشافعية اهـ (1/ 105)۔
و فی الفتاوى الهندية : و يغسل يده بعد الاستنجاء كما يكون يغسلها قبله ليكون أنقى و أنظف . و قد روي أن النبي - صلى الله عليه و سلم - «غسل يده بعد الاستنجاء و دلك يده على الحائط» . كذا في التجنيس اھ (1/ 49)۔
استنجاء کے بعد ہاتھ دھونا - باتھ ٹب کو کھانے، پینے کے امور میں بھی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کے آداب 0