السلام علیکم! میں مکہ کا رہائشی ہوں، اس سال میں نے نفلی حجِ افراد کیا ہے، میں نے ذو العقد ۃکے ابتدائی ایام میں لاعلمی کی وجہ سے عمرہ کیا تھا کسی اور کے نام کا ،کیا مجھے اس کا کفارہ دینا ہو گا ؟ اور کفارہ کی کون کون سی صورتیں ہیں؟
سائل نے ذی قعدہ میں اگر کسی اور کی طرف سے عمرہ کیا تھا تو اس کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ہوا اور جس کیطرف سے عمرہ ادا کیا تھا اسکی طرف سےعمرہ بھی ادا ہو گیا ہے ۔