والدین کی خدمت کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ شادی شدہ بیٹیوں کی یا شادی شدہ بیٹوں کی؟
اگر ماں باپ ضرورت مند ہوں تو بیٹوں، بیٹیوں دونوں پر برابر ان کی خدمت اور دیکھ بھال لازم ہے، جبکہ والدین کی خدمت کا موقع ملنا خوش قسمتی کی بات ہے، اسے اپنی سعادت سمجھ کر اخلاص کے ساتھ احسن طریقے سے کرنا چاہئے۔
قال رسول اللہ ﷺ : ’’رِضی الرب فی رِضی الوالد وسخط الرب فی سخط الوالد‘‘۔ (سنن الترمذی: ج٤، ص٣١۰).
وفی الھندیۃ: ویجبر الولد الموسر علٰی نفقۃ الأبوین المعسرین مسلمین کانا أو ذمیین، قدرا علی الکسب أو لم یقدرا۔ (إلی قولہ) وإذا اختلطت الذکور والإناث فنفقۃ الأبوین علیھما علی السویۃ فی ظاھر الروایۃ، وبہ أخذ الفقیہ أبو اللیث وبہ یفتٰی، کذا فی الوجیز الکردری۔ (ج١، ص٥٦٤) واللہ اعلم