السلام علیکم جناب!
میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے ماں باپ کے گھر رہتا ہوں ، میری ماں میرے بیوی بچوں پر طنزیہ فقرے کستی اور اکثر برا بھلا کہنے کے ساتھ بددعائیں بھی دیتی ہیں ، میری ساس اور سالی پر بھی مختلف الزامات لگاتی ہیں ، اس مسئلہ کے حل کے لیے میں اپنی فیملی کے ساتھ اوپر والی منزل پر شفٹ ہو گیا ہوں ، میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں ، میرا کوئی بھائی بہن نہیں ، میرے والد کی پنشن 29000 اور میری والدہ کا سیونگ اکاؤنٹ منافع 20000 آ تا ہے ، اس کے میں انہیں 20000 ہر مہینے دیتا ہوں ، ان دونوں کو شوگر کی بیماری ہے اور دونوں کی دواؤں کا خرچ تقریباً 17000 ہر ماہ ہے۔
اب میرے والدین نیچے بیٹھ کر پھر مجھے اور خاص طور پر میری بیوی اور میری ساس کی برائی کرتے ہیں اور ان پر بہتان باندھتے ہیں ، جسکی آ وازیں میری بیوی کے کانوں میں پڑتی ہیں اور ہمارے گھر میں آ ئے دن لڑائی رہتی ہے ، میں کرائے کا گھر افورڈ نہیں کر سکتا ، ایک تو میری جیب اجازت نہیں دیتی ، پھر والدین بوڑھے ہیں، گو کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں میری ضرورت نہیں اور جہاں ہم رھتے ہیں وہاں بہتر سہولیات میسر ہیں ، جو اگر میں کہیں اور دیکھوں تو 30000 کرایہ میں ملتی ہیں ، میں نے اَپنے والدین سے بات کی اور ان سے کافی بحث بھی کی لیکن میری والدہ باز نہیں آ رہی ۔
میری بیوی کہتی ہے کہ مجھے الگ گھر میں رکھ لو یا پھر مجھے چھوڑ دو ، میں بھی اپنے والدین کو چھوڑنا نہیں چاہتا ، اور اپنی بیوی کو بھی چھوڑنا مشکل ہے ، میرے دو بچے ہیں جنکی عمر 9 اور 10 سال ہے ، میرے والد کہتے ہیں کہ میری بیوی مجھے کبھی نہ کبھی دغا دے گی پر بظاہر مجھے ایسا نہیں لگتا ۔
میں اپنی بیوی کو بھی سمجھاتا رہتا ہوں کہ آپ صبر کریں اور باتوں کو نظر انداز کر دیا کریں ، جب میرے حالات اجازت دیں گے تو میں آ پکو الگ گھر لے دوں گا لیکن ان باتوں کا اثر نہیں ہوتا ۔ یہ خلاصہ ہے حالات کا ، میں بہت پریشان رہتا ہوں ۔
ان حالات کی روشنی میں مجھے بتائیں کہ آ یا میں اپنی بیوی کو چھوڑ دوں ، اپنے والدین سے بدتمیزی کروں یا پھر میں کچھ اور کروں ؟
میں بنک میں ملازمت کرتا ہوں اور میرے پاس اتنا سرمایہ نہیں کہ کرایہ پر گھر لے سکوں ، میرے اوپر ابھی قرضے بھی واجب الأداء ہیں۔
برائے مہربانی مجھے کچھ ہونے سے پہلے جواب ارسال کردیں۔
صورت مسئولہ میں ذکرکردہ صورت حال میں جب سائل نے اپنے بیوی کو مستقل الگ منزل میں رہائش دے رکھی ہے، جس میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ آزادی سے زندگی بسر کررہی ہے، تو اس سے اس کا شرعی حق پورا ہوچکاہے، اس کے باوجود اس کا یہ مطالبہ کرنا کہ آپ اپنے بیمار والدین کو چھوڑکر کسی دوسری جگہ کرایہ کے گھرمیں شفٹ ہوجاؤ قطعا غلط اور غیرشرعی مطالبہ ہے، ایسی صورت حال میں سائل کو نہ تو بیوی کو طلاق دینے کی ضرورت ہے، اور نہ ہی بوڑھے والدین کے ساتھ بدتمیزی کرنے کے ضرورت ہے ، بلکہ سائل کو چاہیے کہ خود یا بیوی کے گھروالوں کے توسط سے اسے سمجھانے کی کوشش کرے، کہ ایسی صورت حال میں والدین کو تنہاچھوڑنا شرعا اور اخلاقا ہراعتبارسے غلط اور دنیاوآخرت میں ناکامی کا سبب ہے،
البتہ اگرسائل کے والدین اس سلسلہ میں نامناسب انداز سے گفتگو کرتے ہوں، تو ان کا یہ عمل بھی غلط ہے، اوراس کے وبال انہیں کے سرہوگا ، لیکن اس عمل کی وجہ سے انہیں تنہاچوڑکر جانا کسی صورت بھی جائز نہیں، لہذا سائل حسب سابق اپنے والدین کی خدمت کو سعادت سمجھ کرکرنے کی پوری کوشش کرے ،اور اس کے ساتھ ساتھ بیوی کو بھی سمجھائے کہ وہ اپنے اس رویہ سے باز آئے، ورنہ جو سلوک آپ دونوں ضعیف العمر والدین کے ساتھ کریں گے، کل اس دنیا میں وہی سلوک آپ کی اولادآپ دونوں کے ساتھ کریں گے، اور آخرت کا وبال الگ ہوگا۔