کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام والدین کا خیال رکھنے کے بارے میں کیا کہتا ہے ؟ خاص کر اس صورت میں کہ ماں اور باپ علیحدہ رہتے ہوں اور ایک ساتھ رہنے پر تیار نہ ہوں اس لئے کہ میرے والد ماضی میں میری والدہ سے مارپیٹ کرتے رہے ہیں، اب وہ دونوں بوڑھے ہوچکے ہیں اور دونوں کو میری مدد کی ضرورت ہے لیکن وہ اب تک ایک ساتھ رہنے کو تیار نہیں، میں جاننا چاہتا ہوں کہ اسلام اس صورتحال میں ہمیں کیا تعلیم دیتا ہے؟
والدین کی خدمت کرنا ، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور اگر وہ محتاج ہوں تو ان کیلئے کھانے پینے اور رہائش کا انتظام کرنا ، دینِ اسلام میں فرض اور بہت اہم عبادت ہے خصوصاً جبکہ وہ بوڑھے ہوچکے ہوں اور خدمت کے بھی محتاج ہوں ، لہٰذا سائل مالی اعتبار سے اگر واقعۃً ان کے نان و نفقہ اور رہائش کا انتظام کرنے کی وسعت رکھتا ہو تو شرعاً اس پر لازم ہے کہ ان دونوں کیلئے معقول انتظام کرے اور ان کی خدمت کو اپنی سعادت مندی سمجھے۔
فی الدّر المختار: (لا) یفرض (علٰی صبی) وبالغ لہ أبوان أو أحدہما لأن طاعتہما فرض عین۔ وفی الرد: إذ لو کان (ای الأبوان أو أحدہما) معسرًا محتاجًا إلٰی خدمتہ فرضت علیہ ولو کافرًا۔ اھـ (ج۴۱، ص۱۲۴) وفیہ ایضًا (و)تجب (علٰی موسر)۔۔۔۔۔( یسار الفطرۃ) (إلٰی قولہ)( النفقۃ لأصولہ)۔۔۔۔۔( الفقراء)الخ۔
وفی رد المحتار: قولہ النفقۃ: أشار إلٰی أنّ جمیع ما وجب للمرأۃ وجب للأب والأم علی الولد من طعام وشراب وکسوۃ وسکنی حتی الخام بحر۔ اھـ (ج۳، ص۶۲۲)-