اسلام علیکم
بیٹے کی بیوی کو سو نے کی جیولری بوقتِ شادی باپ نے اپنے پیسوں سے خرید کے ڈالی بعد میں بیٹا سخت نا فرمان ہو گیا کیا باپ وہ زیورات واپس لے سکتا ہے۔
باپ نے بیٹے کی بیوی (بہو) کے ساتھ تبرع اور احسان کرتے ہوئے شادی کے مو قع پر جو زیور بنا کر دئیے تھے تو یہ ان کی طرف سے ہبہ اور گفٹ ہو اہے، اب ان زیورات کو بہو سے واپس لینا جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی الھندیۃ:واذا بعث الزوج الی اھل زوجتہ أشیاء عند زفافہا منھا دیبا ج فلما زفت الیہ اراد ان یستر د من المراۃ الدیباج لیس لہ ذلک اذا بعث الیہا علی جہۃ التملیک، کذا فی الفصول العمادیۃ۔اھـ (ج۱/ ص۳۲۷)۔
وفی ردالمختار تحت: (قولہ لأن الظاہر یکذبہ) قلت: ومن ذلک ما یبعثہ الیہا قبل الزفاف فی الاعیاد والمواسم من نحو ثیاب وحلی، وکذا ما یعطیہا من ذلک او من دراھم او دنا نیر صبیحۃ لیلۃ العرس ویسمی فی العرف صبحہ، فان کل ذلک تعورف فی زماننا کو نہ ھدیۃ لا من المہرولا سیما المسمی صبحۃ، فان الزوجۃ تعوضہ عنھا ثیابھا ونحو ھا صبیحۃ العرس ایضااھـ (ج۳/۱۵۵) واللہ اعلم باالصواب