السلام علیکم!میں امریکہ میں رہتاہوں،لیکن پیدائش کراچی کی ہے،سوال یہ ہے کہ میرے والدین میرے ساتھ بہت زیادتی کرتے ہیں،ہرچیزمیں تنگ کرتے ہیں،تو میرارویہ ان لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ خراب ہے ،تو ایساکرنے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
واضح ہو کہ والدین بیجاطور پراپنی اولاد کو تنگ نہیں کرتی ،بلکہ وہ اپنی اولاد کی بہترین تربیت اور پرورش کی خاطربسااوقات غیرضروری اور غیراخلاقی امورپر روک ٹو ک کرتی ہے تاکہ بچوں کا مستقبل خراب نہ ہو،اور اسی میں اولاد کی بھی بھلائی ہوتی ہے۔اور ایسے امورمیں والدین کی اطاعت کرنا شرعابھی لازم ہے ۔تاہم اگروالدین واقعی زیادتی کرتے ہوں توان کوخودیاکسی کے ذریعہ ادب سے سمجھادیناچاہئے،اس کے باوجود بھی اگروہ اپنے طرزعمل سے بانہ آئیں،توبھی والدین سے بدظن ہوکر ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنااور ان کی دل آزاری کرنا درست نہیں بلکہ صبراور درگزرسے کام لیناچاہئے،اور والدین کے لئےدعاکرناچاہئے کیونکہ والدین کے ساتھ بدسلوکی کرنے والےکے بارےمیں احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔اس لئے سائل کوچاہئے کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ رویہ خراب کرنے اور ان سے بدظن ہونے کے بجائےان کی باتوں پر دیہان دیاکرے ، اور جن غیرضروری امورسے وہ منع کرتے ہیں ان سے بچنے کی کوشش کریں، اور اسی میں سائل کے لئے بہتری ہے۔
وفی مشکوۃ المصابیح: وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أصبح مطيعا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من الجنة وإن كان واحدا فواحدا . ومن أمسى عاصيا لله في والديه أصبح له بابان مفتوحان من النار وإن كان واحدا فواحدا قال رجل وإن ظلماه ؟ قال وإن ظلماه وإن ظلماه وإن ظلماه (ج1ص530)