ترجمہ: میرے والد صاحب جادو ٹونا کرنے میں پڑ گئے ہیں اور وہ غلط کام کرتے ہیں ،پاکیزگی کا کوئی خیال نہیں رکھتے نہ کبھی نہاتے ہیں ،انکی وجہ سے ہمارے پورے خاندان میں بے عزتی ہوگئی ہے ،میر ی تین بہنیں ہیں ،32،30،اور 22 سال کی اور میری عمر 27 سال ہے،وہ کسی کی شادی بھی نہیں کرنے دیتے،جس کی وجہ سے گھر کا ماحول بہت خراب ہوگیا ہے ،لیکن والد صاحب کو گھر کی کوئی فکر نہیں ہے ،میری بہنیں ان کے سامنے لڑتی ہیں ، اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہتی ہیں ،لیکن ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ،میری والدہ کو alzymer(دماغی بیماری) ہے، اور والد صاحب ان کا علاج کروانے ہسپتال نہیں جانے دیتے ،میری والدہ کی حالت بہت خراب ہورہی ہے ،میں والدہ کو لے کر الگ ہونا چاہتا ہوں ،تاکہ ان کا صحیح علاج کروا سکوں،میں نے والد صاحب کو سمجھانے کی بہت کوشش کی ہے،لیکن وہ کسی کی نہیں سنتے اور الٹا ہمیں ہی برا بھلا کہتے ہیں،والد صاحب دادا کے گھر میں رہتے ہیں اور ان کے پاس کوئی جائیداد کچھ بھی نہیں ہے ،میں الگ ہونا چاہتا ہوں ،تاکہ والدہ کا علاج کروا سکوں اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچ سکوں ، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ،کیا میرا یہ عمل صحیح ہے؟
سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو تو سائل کے والد کا مذکور طرزِ عمل شرعاً جائز نہیں ، بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہورہا ہے ،تاہم سائل کو چاہیے کہ اولاً حکمت و بصیرت کے ساتھ اپنے والد کو سمجھانے کی پوری کوشش کرے اور اگر خود سمجھانے سے فائدہ نہ ہو ،تو خاندان کے معزز افراد کے ذریعہ یا کسی مستند عالمِ دین کے ذریعہ سمجھانے کی کوشش کرے ، اور ساتھ میں اللہ تعالیٰ سے ان کی ہدایت کیلئے بھی دعا کرتا رہے،ان شاء اللہ امید ہے کہ اس سے فائدہ ہوگا ،تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود وہ اپنے اس غلط طرزِ عمل سے باز نہ آئے اور سائل کی والدہ کی طبیعت مزید بگڑ تی جارہی ہو ، تو ایسی صورت میں سائل پر والد کی بات ماننا شرعاً لازم نہیں ،بلکہ اسی گھر میں رہتے ہوئے اگر علاج ممکن ہو تو ٹھیک ،ورنہ سائل والدہ کو لے کر الگ رہائش بھی اختیار کرسکتا ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ : ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (النخل:125 الآیة )
و فی الدر المختار: (لا) يفرض (على صبي) وبالغ له أبوان أو أحدهما؛ لأن طاعتهما فرض عين «وقال - عليه الصلاة والسلام - للعباس بن مرداس لما أراد الجهاد الزم أمك فإن الجنة تحت رجل أمك» اھ
و فی الشامیة : (قوله وبالغ له أبوان) لو كان معسرا محتاجا إلى خدمته فرضت عليه ولو كافرا اھ (124/4)واللہ اعلم