کیا اوالدہ کو"حجِ کعبہ "کہنا جائز ہے ؟ مثلا میں نے گفتگو میں کسی کو بول دیا کہ میری والدہ تو میر ا"حج کعبہ" ہے، اس نے بولا تو بہ کرو میں نے اس کو بولا میں نے مقام کی بات کی کہ ماں کی خدمت کو بھی حج کا درجہ ( ثواب) کہا گیا ہے ، برائے مہربانی را ہ نمائی فرمائیں۔
والدین کی طرف رحمت کی نظر سے دیکھنے پر اللہ تعالی کی طرف سے نفلی مقبول حج کا ثواب ملتا ہے ، اس لیے اس معنیٰ کی وجہ سے اگر کوئی اپنی والدہ کو یہ کہہ دے کہ میری والدہ تو میر احج ہے ، اس میں اگر چہ کوئی گناہ نہیں ، مگر والدہ کو اس طرح کے القابات سے موسوم کرنا مناسب نہیں جس سے احتراز کرنا چاہیے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «مامن ولد بار ينظر إلى والديه نظرة رحمة إلا كتب الله له بكل نظرة حجة مبرورة» . قالوا: وإن نظر كل يوم مائة مرة؟ قال: «نعم الله أكبر وأطيب» اھ (3/ 1383)
وفى روح البيان: قال فى شرح التحفة لا يفطر فى النافلة بعد الزوال الا إذا كان فى ترك الإفطار عقوق الوالدين ولا يتركهما لغزو او حج او طلب علم نفل فان خدمتهما أفضل من ذلك اھ (6/ 450)