ترجمہ: السلام علیکم میرا نام حماد ہے، میری بیوی اور میری ماں کے درمیان بہت مسئلے ہیں،ان کی آپس میں نہیں بنتی ، بہت کوششیں اور وقت گزرنے کے بعد یہ لگتا ہے کہ اسے الگ کردو ،الگ اس طرح کہ گھر تقسیم کردوں،اور اس میں زیادہ غلطیاں اور مسئلے امی کی طرف سے ہیں جو میں نے بھی دیکھا ہے، بیگم کیطرف سے بھی ہیں لیکن اکثر و بیشتر امی کی طرف سے باتیں ایسی ہوتی ہیں جو مجھے خود بھی اچھی نہیں لگتی جاتی ہے اور ساتھ رہ کر میرا دل بھی خراب ہوجاتا ہے ماں کی طرف سے ،لیکن جو بھی ہے وہ ماں ہے مجھے کیا،اس صورتِ حال میں بیوی کو الگ کرسکتا ہوں،کہ اپنے والدین کے حقوق بھی ادا کروں ،آنا جاناہو،بچوں کا اور میرا بھی،ان حالات میں خدا مجھ سے کیسے راضی ہوگا؟ سوال یہ ہے کہ بیوی کے حقوق بھی ہیں اور ماں کے بھی،شرعیت کیا کہتی ہے اس کی وضاحت کردیں ،میں نے استخارہ بھی کیا ہے میں الگ ہونے پر مطمئن ہوں۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق اگر ایک ساتھ گھر میں رہنے کی وجہ سے سائل کی والدہ اور بیوی کے درمیان اختلافات اور لڑائی جھگڑے کا سلسلہ جاری رہتا ہو جس کی وجہ سے گھریلو ماحول اور سکون متاثر ہورہاہو، تو سائل کےلئے بیوی کو الگ رہائش کا انتظام کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے ،تاہم علیحدہ ہونے کے باوجود سائل کے ذمہ والدہ کی خدمت ،دیکھ بال اور ان کی ضروریات کا خیال رکھنا لازم اور ضروری ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا۔(بنی اسرائیل 23)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: "تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك" (1/556)۔
وفی الدر المختار و رد المحتار:"إن أمكنه أن يجعل لها بيتا على حدة في داره ليس لها غير ذلك".(3/601)۔