انسان پر غسل کب واجب ہوتا ہے تناؤ کی حالت میں جو قطرات نکلتے ہیں کیا اس سے بھی غسل فرض ہوتا ہے یا نہیں؟ اور تناؤ کے بعد بعض اوقات دودھیا قطرات نکلتے ہیں کیا اس سے بھی غسل فرض ہوجاتا ہے؟
واضح ہو کہ غسل تین چیزوں سے واجب ہوجاتا ہے: جنابت کے لاحق ہونے سے ،حیض و نفاس کے انقطاع سے، اور احد السبیلین میں حشفہ کے داخل کرنے سے،جبکہ تناؤ کی صورت میں جو قطرات یا اس کے بعد جو دودھیا قطرے نکلتے ہیں اگر یہ دفق کے ساتھ اور کود کر ہوں اور اس سے جنسی تسکین حاصل ہوجاتی ہو، تو اس کی وجہ سے غسل واجب ہے، ورنہ اس سے صرف وضو لازم ہوگا۔
وفی الدر المختار: وفرض الغسل عند خروج المنی وعند ایلاج حشفة ھی ما فوق الختان آدمی او ایلاج قدرھا من مقطوعھا فی احد سبیلی آدمی وعند انقطاع حیض ونفاس هٰذا وما قبلہ من اضافة الحکم الی الشرط ای یجب عندہ لابہ اھـ
وفیہ ایضًا: لا عند مذی او ودی بل الوضوء منہ ومن البول جمیعًا علی الظاھر اھـ (ج۱، ص۱۵۹ تا ص ۱۶۵)