حضرت میں نے پچھلے رمضان شریف میں 15یا 16 روزے نہیں رکھے،کچھ رکھے،کچھ رکھ کر توڑ دیے،اپنی کم ہمتی کی وجہ سے،اور کچھ سفر کی وجہ سے،اب مجھے کفارہ ادا کرنا چاہیئے یا فدیہ؟ پلیز رہنمائی کیجئے
سائل نے جتنے روزے حالتِ سفر میں شدید مشقت کی وجہ سے بامرِ مجبوری رکھ کر توڑ دیے ،یا سرے سے رکھے ہی نہیں، ان کی صرف قضا لازم ہے،البتہ جتنے روزے کم ہمتی کی وجہ سے رکھ کر توڑ دیے ، ان روزوں کی قضا کیساتھ کفارہ بھی لازم ہے،اور جب ایک ہی رمضان کے متعدد روزے توڑدیے ہیں تو ایک کفارہ لازم ہوگا اور کفارہ یہ ہے کہ مسلسل دوماہ روزے رکھے جائیں،اگر طاقت نہ ہوتو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلایا جائے ۔
كما في الهندية:فلو سافر نهارا لا يباح لہ الفطر في ذلك اليوم وان افطر لا كفارة عليه اھ(1/206)–
وفي الدر المختار:ولو تكرر فطره ولم يكفر للأول يكفيه واحدة،ولو في رمضانين عند محمد وعليه الاعتماد اھ(2/413) ۔
وفي الهداية:ولو أكل أو شرب(إلى قوله) فعليه القضاء و الكفارة اھ (1/219) ۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0