کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیانِ عظام ان مسائل کے بارے میں کہ ایک شخص نے حالتِ سفر میں رمضان کا روزہ رکھا، اور گھر پہنچ کر روزہ توڑ دیا ،تو اس پر روزہ کا کفارہ لازم ہوگا یا نہیں؟ حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔
حالتِ سفر میں روزہ رکھ کر گھر پہنچنے کے بعد اگر کوئی اس کو توڑ دیتا ہے، تو اس پر فقط قضا لازم ہے، کفارہ نہیں۔
ففی أحكام القرآن للجصاص: باب من صام في السفر ثم أفطر: وقد اختلف فيمن صام في السفر ثم أفطر من غير عذر فقال أصحابنا عليه القضاء ولا كفارة اھ (1/ 268)۔
و في الخانیة: المسافر إذا قدم مصره وھو صائم فی رمضان فأفتی أن صومه لا یجزیه فأفطر بعد ذلك متعمدا لا کفارة علیه، وإن لم یفت لذلك فكذلك فی قول أبی حنیفة وأبی یوسف رحمھم اللہ تعالیٰ اھ (ھندیہ: ۱/ ۲۱۵) واللہ اعلم بالصواب