السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ میری چھ ماہ بعد بیٹی پیدا ہوئی تھی جو کہ دو دن زندہ رہی اور تیسرے دن فوت ہوگئی، رمضان شریف سے آٹھ دن پہلے۔ بارہویں رمضان کو میرے بیس دن پورے ہو گئے اور میں بیماری سے پاک ہوگئی پھر میں نے تیر ہواں روزہ سے لے کر ۲۸ روزے پورے کر لیے اور ۲۹ روزہ کے دن ۱۲ بجے کے آس پاس بیماری پھر سے شروع ہوگئی۔ اب سوال یہ ہے کہ میں سارے روزے رکھ لوں یا صرف پہلے والے ۱۲ روزے رکھ لوں؟
سائل کی بیوی کو بارہ رمضان کو نفاس کا خون موقوف ہو کر پھر دوبارہ انتیس رمضان کو شروع ہوا ہے تو یہ درمیان کے تمام دن نفاس ہی کے شمار ہوں گے، اس دوران رکھے گئے روزوں کا بھی اعادہ لازم ہوگا۔
ففی حاشية ابن عابدين: الطهر المتخلل بين الأربعين في النفاس لا يفصل عند أبي حنيفة سواء كان خمسة عشر أو أقل أو أكثر، ويجعل إحاطة الدمين بطرفيه كالدم المتوالي وعليه الفتوى. (1/ 290)
وفی الفتاوى الهندية: الطهر المتخلل في الأربعين بين الدمين نفاس عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وإن كان خمسة عشر يوما فصاعدا وعليه الفتوى. (1/ 37) واللہ أعلم بالصواب!
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0