السلام علیکم!
میرا سوال یہ ہےکہ اگر یہ یاد نہ ہوکہ بالغ ہونے کے بعد جو روزے قضا ہوگئے تھے،ان کی قضا رکھی ہے یانہیں ؟غالب گمان یہ ہےکہ قضا رکھی ہیں،لیکن صحیح یاد نہیں ہے تو کتنے روزوں کی قضا کرنی ہوگی؟اس کے ساتھ یہ سوال بھی ہےکہ کہیں سے سنا ہےکہ ماضی میں جو روزے رکھے ہوں،اب ہوسکتا ہے اسمیں بہت سی غلطیاں ہوئی ہوں،کلی کرنے میں،یا کسی اور چیز میں تو اگر ان کی قضا کرنی ہوتو کتنے روزوں کے حساب سے کریں گے؟کیونکہ وہ تو ہمیں نہیں معلوم کہ کونسا روزہ ہمارا قبول ہوا ہے؟اور کونسا نہیں ہوا ہے؟
سائلہ کو اگر کسی روزے کے حوالے سے فاسد ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہوتو فقط اس شبہ کی بنا پر سائلہ کے ذمہ گذشتہ روزوں کی قضا لازم نہیں،اِسی طرح بالغ ہونے کے بعد سائلہ سے جتنے روزے قضا ہو چکےتھے،اگر اسکے بقدر روزے قضا رکھنے کا سائلہ کو یقین یا غالب گمان ہوتو ایسی صورت میں سائلہ کو مزید قضا روزے رکھنے کی ضرورت نہیں،تاہم اگر کوئی شبہ ہو،اور مزید دلی اطمینان کےلئے قضا کی نیت سے روزے رکھے جائیں،تو کوئی مضائقہ نہیں۔
كما في الأشباه والنظائر لابن نجيم:القَاعِدَةُ الثَّالِثَةُ: "الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِ" ولذا قال في الملتقط: ولو لم يفته من الصلاة شيء، واجب أن يقضي صلاة عمره منذ أدرك لا يستحب ذلك إلا إذا كان أكبر ظنه فسادها بسلب الطهارة، أو ترك شرط فحينئذيقضي ما غلب على ظنه وما زاد عليه يكره لورود النهي عنه (انتهى)اھ(52)۔
وفي حاشيته قوله: "الا اذا كان اكبر ظنه فسادها يعنى فيستحب كما هو ظاهر من العبارة وفيه انه اذا كان اكبر الظن هو اليقين كيف يكون القضاء مستحبا اللهم الا ان يدعى ان الاستثناء منقطع اھ (52) ۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0