کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میری ساس جو کہ شوگراور بی پی کی مریضہ بھی ہیں ، رمضان المبارک میں اس کو حمل تھا، تو ایک ماہر ڈاکٹر نے روزہ رکھنے سے منع کیا، اور میری ساس نے پچیس روزے نہیں رکھے، اب چونکہ وضعِ حمل ہوچکا ہے، اور میری ساس کہتی ہیں کہ میں وہ قضاء روزے شوگر اور بی پی کی وجہ سے نہیں رکھ سکتی، بلکہ میں فدیہ ادا کروں گی،کیا میری ساس کو روزے رکھنے چاہیئےیا فدیہ دینا ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کی ساس کو روزہ رکھنے کی وجہ سے جان جانے کا خطرہ ہو یا بیماری میں ایسی شدت آتی ہوجو ناقابل برداشت ہو تو اس کیلئے دیندار اور ماہر ڈاکٹر کے مشورہ کی سےروزہ چھوڑنے کی گنجائش ہے، اب اگر مرتےدم تک روزہ رکھنے کی قدرت کی امید نہ ہو تو وہ فدیہ بھی دے سکتی ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: فمن کان منکم مریضاً او علی سفرٍ فعدۃ من ایّام اخر وعلی الذین یطیقونہ فدیۃ طعام مسکین، (سورۃ البقرۃ، آیۃ184)۔
وفی الدر المختار: (وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوباً (الی قولہ) ومتى قدر قضى لأن استمرار العجز شرط الخلفية
وفی الشامیۃ تحت: (قوله وللشيخ الفاني) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض وكذا ما في البحر لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر لأنه استيقن أنه لا يقدر على القضاء (قوله العاجز عن الصوم) أي عجزا مستمرا كما يأتي، أما لو لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر ويقضيه في الشتاء فتح (قوله ويفدي وجوبا) لأن عذره ليس بعرضي للزوال حتى يصير إلى القضاء فوجبت الفدية نهر، ثم عبارة الكنز وهو يفدي إشارة إلى أنه ليس على غيره الفداء لأن نحو المرض والسفر في عرضة الزوال فيجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصية بالفدية (الی قولہ) (قولہ متی قدر) أی الفانی الذی أفطر وفدی (قولہ شرط الخلفیۃ) أی فی الصوم أی کون الفدیۃ خلفاً عنہ الخ ـ(کتاب الصوم، ج2، ص429، ط: سعید)
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0