ایک ساتھی رمضان المبارک میں ایک شہر گیا تھا اس شہر تک سفر شرعی مکمل نہیں ہو رہا تھا، لیکن اس شہر میں جس جگہ میں قیام تھا وہاں تک سفر شرعی مکمل ہو رہا تھا، وہاں پر مسافر نے چھ دن قیام کا ارادہ کیا وہاں پر اس مسافر نے روزہ رکھا ، روزے کی حالت میں زنا ہوگیا ، اب ہم یہ پوچھتے ہیں کہ کیا یہ سفر سفر شرعی شمار ہوگا یا نہیں؟ اگر مسافر ہے تو اس پر قضاء اور کفارہ دونوں ہیں؟ یا صرف قضاء؟
واضح ہو کہ زنا کرنا شرعاً ناجائز وحرام اور گناہ کبیرہ ہے اور روزے کی حالت میں اس کی شناعت مزید بڑھ جاتی ہے، لہذا شخص مذکور پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ کبیرہ پر بارگاہ خداوندی میں خوب گڑ گڑا کر ندامت قلب کے ساتھ تو بہ واستغفار اور آئندہ کے لیے دوبارہ اس قسم کے ناجائز وحرام اور کبیرہ گناہ ہوں سے بچنے کا پختہ عزم کرے۔
جہاں تک اس روزے کی قضاء اور کفارہ کا تعلق ہے تو اگر شخص مذکور سفر کی نیت سے اپنے مقام سے روانہ ہوا تھا اورشہر میں جس جگہ رہائش پذیر تھا، اس مقام تک مسافت شرعی کی مقدار سواستتر کلو میٹر کا فاصلہ بن رہا تھا، اگر چہ دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ اس سے کم تھا، تب بھی شخص مذکور مسافر تھا، اور حالت سفر میں روزہ توڑنے کی وجہ سے اس پر صرف اس دن کی قضاء لازم ہے،کفارہ لازم نہیں۔
کما فی الدرالمختار: (ولو نوى مسافر الفطر) أو لم ينو (فأقام ونوى الصوم في وقتها) قبل الزوال (صح) مطلقاً (ويجب عليه) الصوم (لو) كان (في رمضان) لزوال المرخص (كما يجب على مقيم إتمام) صوم (يوم منه) أي رمضان (سافر فيه) أي في ذلك اليوم (و) لكن (لا كفارة عليه لو أفطر فيهما) للشبهة في أوله وآخره.الخ۔
و فی رد المحتار: تحت: (قوله كما يجب على مقيم إلخ) لما قدمناه أول الفصل أن السفر لايبيح الفطر، وإنما يبيح عدم الشروع في الصوم، فلو سافر بعد الفجر لايحل الفطر. قال في البحر: وكذا لو نوى المسافر الصوم ليلاً وأصبح من غير أن ينقض عزيمته قبل الفجر ثم أصبح صائمًا لايحل فطره في ذلك اليوم، ولو أفطر لا كفارة عليه. اهـ. قلت: وكذا لا كفارة عليه بالأولى لو نوى نهارا فقوله: ليلاً غير قيد (قوله: فيهما) أي في مسألة المسافر إذا أقام ومسألة المقيم إذا سافر، كما في الكافي النسفي، وصرح في الاختيار بلزوم الكفارة في الثانية. قال ابن الشلبي في شرح الكنز: وينبغي التعويل على ما في الكافي أي من عدمه فيهما. قلت: بل عزاه في الشرنبلالي إلى الهداية والعناية والفتح أيضًا، (قوله: للشبهة في أوله وآخره) أي في أول الوقت في المسألة الأولى وآخره في الثانية فهو لف ونشر مرتب الخ (فصل فی العوارض المبیحۃ لعدم الصوم، ج: 2، ص: 431، ط: سعید)۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0