میرے پیٹ میں بچہ ہے،جو ساتواں مہینے میں ہے،اور آگے رمضان آرہا ہے،اور میں شوگر کی مریضہ ہوں، تو کیا ڈاکٹر کے کہنے سے میں اپنے روزے چھوڑ سکتی ہوں؟بعد میں پھر اس کی قضا کا ارادہ ہوتو اسلام کا کیا فیصلہ ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر حمل اور بیماری کیوجہ سے سائلہ روزہ رکھنے پر قادرنہ ہو، ماہر اور دیندار ڈاکٹر بھی سائلہ کو روزہ نہ رکھنے کا مشورہ دیں،تو ایسی صورت میں فی الوقت سائلہ کےلئے روزہ نہ رکھنے کی گنجائش ہوگی،تاہم صحت یاب ہونے کے بعد سائلہ پر ان روزوں کی قضا لازم ہو گی۔
كما في سنن النسائي: عن أنس بن مالك قال: رخص رسول الله صلى الله عليه وسلم للحبلي التي تخاف على نفسها أن تفطر وللمرضع التي تخاف على ولدها اھ (1 /533) ۔
وفي الفتاوى الهندية:(ومنها حبل المرأة وإرضاعها)الحامل والمرضع إذا خافتا على أنفسهما أو ولدهما أفطرتا وقضتا ولا كفارة عليھما كذا في الخلاصة اھ(1/ 207) ۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0