اگر کوئی نا سمجھی میں رمضان میں روزے کی حالت میں جماع کرےتو اس کا کیا حکم ہے، بطور کفارہ روزے لازم ہوں گے یا فدیہ ؟
واضح ہوکہ روزے کی حالت میں بیوی سے جماع کرنا شرعاً ناجائز اور گناہ کبیرہ ہے ، چنانچہ اگر کوئی شخص مسئلہ سے لاعلمی کی وجہ سے رمضان میں روزہ کی حالت میں بیوی سے ہمبستری کرے تو اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ، اور اس پر کفارہ اور ایک روزے کی قضا لازم ہوگی ، اور روزہ کا کفارہ یہ ہے کہ دو ماہ مسلسل روزے رکھے ، اگر درمیان میں کسی بھی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکا تو از سرنو روزے رکھنے ہوں گے ۔
کما فی الدر المختار: (وإن جامع) المكلف آدميا مشتهى (في رمضان أداء) لما مر (أو جامع) أو توارت الحشفة (في أحد السبيلين) أنزل أو لا (الی قولہ) قضى في الصور كلها (وكفر) الخ ( باب ما یفسد الصلوٰۃ و ما لایفسدہ، ج 2، ص 409، ط:سعید) ۔
و فی الھندیۃ: من جامع عمدا في أحد السبيلين فعليه القضاء والكفارة، ولا يشترط الإنزال في المحلين كذا في الهداية (النوع الثانی ما یوجب القضاء و الکفارۃ، ج 1، ص 205، ط:ماجدیہ) ۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0