ایک عورت نے عمرہ کے تمام ارکان ادا کر لیے، سعی کے بعد بال کاٹنے سے پہلے ٹوائلٹ گئی تو معلوم ہوا حیض آگیاہے،اسے معلوم نہیں کہ حیض کب شروع ہوا ؟آج طواف میں یا سعی میں؟ اس کے لیے کیا حکم ہے؟ بال کاٹنے سے عمرہ ہوجائے گا؟ یا پھر سے عمرہ کرے ؟ یا دم دے؟
صورتِ مسئولہ میں عورت کو چاہیے کہ ایک پورے کے برابر بال کاٹ لے اس کا عمره درست ادا ہو گیا ،پھر عمرہ کرنے یا دم دینے کی ضرورت نہیں۔
کما فی الدر المختار : وفي الفيض: لو نامت طاهرة وقامت حائضة حكم بحيضها منذ قامت وبعكسه منذ نامت احتياطا اھ ۔
و فی الرد تحت : (قوله احتياطا)لأن الدم حادث والأصل فيه أن يضاف إلى أقرب أوقاته فتجعل حائضا منذ قامت اھ (1/291)۔