کسی شخص کو پیشاب کے قطرے آتے ہوں تو کیا وہ امامت کروا سکتا ہے ؟ اسے عذر ہے ، ناپاکی کی حالت میں وضو کر کےنماز پڑھ لیتا ہے ، پیشاب کی نالی میں پیشاب کے قطروں کے ساتھ احتلام کے بعد منی کے قطرے بھی رہ جاتے ہیں ، جو کہ غسل کے کچھ گھنٹوں بعد یا کچھ دنوں بعد پیشاب کے ساتھ نکلتے ہیں، تو کیا پھر غسل فرض ہو جاتا ہے؟ یہ منی یا مذی نہیں ، منی کے ہی قطرے ہوتے ہیں۔
ایسا شخص جو پیشاب کی بیماری کی وجہ سے معذور بن چکا ہو ، یعنی اس کو اتنا وقت بھی نہیں ملتا ہو کہ وہ وضو کر کے وقت کی نماز پڑھ لے، بلکہ پورے وقت یہ عذر لاحق رہتا ہو تو وہ دوسرے لوگوں کی امامت نہیں کراسکتا ، جبکہ غسلِ جنابت کے چند گھنٹوں بعد اگر پیشاب کے ساتھ منی کے قطرے نکلیں تو دوبارہ غسل کرنا واجب نہیں ، البتہ اگر منی کے قطرے شہوت کے ساتھ کود کر نکلیں ، تو چونکہ یہ مستقل انزال ہے ، اس لئے اس سے غسل واجب ہو گا۔
کما فی الدر المختار : و فی الخانية خرج منی بعد البول و ذكره منتشر لزمه الغسل، قال في البحر ومحله إن وجد الشهوة و هو تقييد قولهم بعدم الغسل بخروجه بعد البول الخ
و فی رد المحتار : تحت (قوله : تقييد قولهم) أي فيقال إن عدم وجوب الغسل بخروجه بعد البول اتفاقا إذا لم يكن ذكره منتشرا فلو منتشرا وجب ؛ لأنه إنزال جديد وجد معه الدفق والشهوة ، أقول : و كذا يقيد عدم وجوبه بعدم النوم و المشي الكثير اھ (1/161)۔
و فی الدر المختار : و لا طاهر بمعذور) هذا إن قارن الوضوء الحدث أو طراً عليه) بعده (و صح لو توضأ على الانقطاع و صلى كذلك كاقتداء بمقتصد أمن خروج الدم اھ (1/578)۔
و فى الھندية : لو اغتسل من الجنابة قبل أن يبول أو ينام و صلى ثم خرج بقية المني فعليه أن يغتسل عندهما خلافا لأ بي يوسف - رحمه الله تعالى – و لكن لا يعيد تلك الصلاة في قولهم جميعا ، كذا في الذخيرة و لو خرج بعد ما بال أو نام أو مشى لا يجب عليه الغسل اتفاقا ، كذا في التبيين (إلى قوله) رجل بال فخرج من ذكره مني إن كان منتشرا عليه الغسل و إن كان منكسرا عليه الوضوء كذا في الخلاصة اهـ (1/14)۔