کیا قسطوں پر عمرہ جائز ہے ؟یا قرض لیکر عمرہ کیا جاسکتا ہے ؟ جو کہ بعد میں 12 ماہ میں ادا کر دیں، رہنمائی فرمائیے گا۔
اس کی صورت یہ ہے کہ میں اپنی کمپنی سے ’’پی ایف ‘‘ میں عمرہ کے مدمیں پیسے نکلواؤں ،اور عمرہ کرلوں ،اور اس رقم کو کمپنی کے پالیسی کے مطابق 24 ماہ میں ادا کر دوں ؟ کیا یہ جائز ہے ؟ یا جو اپنا نقد پیسہ ہو اس کے ذریعے ہی عمرہ کیا جا سکتا ہے ؟
کمپنی اگر آسان قسطوں پر اپنے ملازمین کو عمرہ کیلئے رقم دیتی ہو ،اور اس قرضہ پر کسی قسم کا نفع اور سود بھی نہ لیتی ہو، اور سائل اپنی تنخواہ سے اس قرض کو آسانی کے ساتھ ادا بھی کر سکتا ہو تو قرض لیکر عمرہ کرنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ اجتناب بہتر ہے۔
ففي الدر المختار: وقالوا لو لم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذلك، أي لو ناويا وفاء إذا قدر اھ (2/ 457)۔