کیا میں اپنی بیٹیوں کو شوال کے مہینہ میں عمرہ کے لئے لے جاسکتا ہوں ؟ جبکہ وہ بالغ ہو چکی ہیں، مگر اپنا فرض حج ابھی تک ادا نہیں کیا، میں نے الحمدللہ حج کیا ہے ، اور ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتے چونکہ ہم ریاض میں رہتے ہیں اور یہاں فیملی نہیں ہے۔
شوال کے مہینہ میں بھی عمرہ کروایا جا سکتا ہے ،مگر اس کے پاس اگر حج تک رہنے کے مصارف ہوں اور حکومت کی طرف سے بھی کوئی رکاوٹ نہ ہو تو اسپر حج لازم ہوگا ورنہ نہیں۔
کما فی البدائع :ومنها ملك الزاد، والراحلة في حق النائي عن مكة، (إلی قوله)(ولنا) أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فسر الاستطاعة: بالزاد، والراحلة جميعا فلا تثبت الاستطاعة بأحدهما، وبه تبين أن القدرة على المشي لا تكفي لاستطاعة الحج اھ (2/122)۔