اگر مرد اپنی عورت سے اس طرح ملے کہ مرد کا عضو عورت کے عضو سے مل جائے ، اگرچہ دخول نہ ہو تو غسل واجب ہوجاتا ہے کہ نہیں ؟اگر مرد اور عورت کا ملاپ ہو دخول نہ ہوا ہو اور انزال ہوجائے تو کیا غسل واجب ہوجاتاہے یا نہیں؟
واضح ہوکہ عضو تناسل کے آپس میں صرف ملنے سے غسل واجب نہ ہوگا ، البتہ اگر ملنے کی وجہ سے انزال ہوجائے یا پھر دخول ہوجائے(چاہے انزال ہو یا نہ ہوہ ) تو ایسی صورت میں غسل واجب ہوجائے گا۔
کما فی الفتاوی الھندیة : (و منها المباشرة الفاحشة) إذا باشر امرأته مباشرة فاحشة بتجرد و انتشار و ملاقاة الفرج بالفرج ففيه الوضوء في قول أبي حنيفة و أبي يوسف - رحمهما الله تعالى - استحسانا و قال محمد - رحمه الله تعالى -: لا وضوء عليه و هو القياس كذا في المحيط (الیٰ قوله) (الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل و هي ثلاثة) منها الجنابة و هي تثبت بسببين أحدهما خروج المني على وجه الدفق و الشهوة من غير إيلاج باللمس أو النظر أو الاحتلام أو الاستمناء اھ (1/13/14)۔
و فی حاشیة الطحطاوی علیٰ مراقی الفلاح : قوله : و منھا تواری حشفة أی تغییب تمام حشفة فلو غاب أقل منھا أو أقل من قدرھا من المقطوع لم یجب الغسل کما
فی القھستانی اھ (1/54)۔