اگر لڑکی عدالت کے ذریعہ شوہر کی رضا مندی کے بنا خلع لیتی ہے اور عدالت خلع دے دیتی ہے تو دوبارہ اسی شوہر کے ساتھ نکاح کاکیا حکم ہے ؟
واضح ہو کہ ، خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے جس کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور باقاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے جو کہ عموماً عدالتی خلع میں مفقود ہوتا ہے، لہذا اگر کسی لڑکی نے شوہر کی اجازت و رضا مندی کے بغیر یکطرفہ عدالت سے خلع کی ڈگری حاصل کی ہو تو شرعاً اس سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا بلکہ دونوں کا نکاح بدستور قائم رہتا ہے اس لئے میاں بیوی بغیر تجدیدنکاح کے بھی حسب سابق زندگی گزارسکتے ہیں۔
کمافي احكام القرآن للجصاص :تحت (قوله تعالى فلا جناح عليهما فيما افتدت به) وإذا كانت الإساءة من قبلها والتعطيل لحقه كان له أن يخالعها على ما تراضيا عليه اھ (1/475) ۔
وفي الفتاوى التاتارخانية : في الملخص و الايضاح : الخلع عقد يفتقر إلى الإيجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض اھ (3/453) –