السلام وعلیکم! میری والدہ جو ابھی 75 برس کی ہیں ان کے شوہر کا انتقال دو دن پہلے بروز اتوار کو ہوا ہے ، عرض کرنا مقصود یہ ہے کہ شوہر کے انتقال سے دو دن پہلے والدہ کا عمرہ ویزا بمع ٹیکس کے آچکا تھا، تمام رقم بھی پوری ادا ہو چکی تھی، کیا شرع میں کوئی گنجائش ہے کہ والدہ عمرہ کرنے جاسکیں؟ اگر ہم عمرہ پر جانے کا فیصلہ ترک کریں گے تو مالی نقصان یقینی ہے ۔ کچھ مدد کریں دین کی روشنی میں۔
واضح ہو کہ عمرہ کی ادائیگی کرنا ایک مستحب اور مسنون عمل ہے ، جبکہ عدت کے دوران بلا کسی عذر شرعی کے عورت کا گھر سے نکلنا نا جائز ہے، لہذا سائل کی والدہ کا عدت کے دوران عمرہ کے لیے جانا جائز نہیں، بلکہ سائل کو چاہیئے کہ والدہ کے عمرہ کے ٹکٹ کو مؤخّر کرے اور عدت گزرنے کے بعدعمرہ کی ادائیگی کی ترتیب بنالے۔
کما فی الرد تحت : (قوله: لأن نفقتها عليها) أي لم تسقط باختيارها، (الی قوله ) وأما المتوفى عنها زوجها فلأنه لا نفقة لها فتحتاج إلى الخروج نهارا لطلب المعاش (الی قوله )والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فی تقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها اھ (3/536)۔
و فی الہندیة : المتوفى عنها زوجها تخرج نهارا وبعض الليل ولا تبيت فی غير منزلها كذا فی الهداية (1/534)۔