اگر رات کو احتلام ہوجائے اب فجر کی نماز بھی پڑھنی ہے پانی بھی موجود ہے، لیکن طبیعت خراب ہے اور غسل کرنے سے بیمار ہونے کا خطرہ ہے , تو اس صورت میں کیا عمل کریں کہ فجر کی جماعت میں شریک ہوجائیں؟ اکثر میرے ساتھ یہ ہوا ہے کہ احتلام کے وقت میری آنکھ کھل گئی اور منی کے قطرے نکلنے سے پہلے اپنی شرمگاہ کو ہاتھ سے پکڑ لیا اور فوراً واش روم گیا اور وہاں منی کے قطرے گرادئیے , اور کپڑے بالکل صاف رہے کوئی منی کا قطرہ نہیں لگا, اب اوپر والے مسئلہ کا کیا جواب ہے ؟اگر غسل کیا تو بیمار ہونے کا خطرہ ہے، سینس (Sinas)کی بیماری ہے۔
سائل کو احتلام ہونے کے بعد غسل کرکے ہی نماز پڑھنا لازم ہے، محض معمولی مرض یا موہوم خطرہ کی وجہ سے نماز کو قضاء کرنا یا تیمم کرکے نماز پڑھنا درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ، جبکہ احتلام کی صورت میں کپڑے ناپاک نہ ہوں ، تب بھی چونکہ جنابت ہوجاتی ہے، اس لئے غسل بہرحال لازم ہوجاتا ہے۔
كما فی الدر المختار: (او لمرض) یشتد او یمتد بغلبة ظن او قول حاذق مسلم. اهـ (٢٣٣/١)
وفی الهندیة: وتعتبر الشهوة عند انفصاله عن مكان لا عند خروجه من رأس الاحلیل. اهـ (١٤/١)
وفیھا ایضًا: اذا احتلم او نظر الی امرأة فزال المنی عن مكانه لشهوة فامسك ذكره حتی سكتت شهوته ثم سال المنی علیه الغسل عندهما وعند أبی یوسفؒ لا یجب. اهـ (١٤/١) والله اعلم