مجھے دو سوالات کے جوابات درکار ہے
۱: میری شادی چودہ سال پہلے ہوئی تھی، آخری دس سال میں میری بیوی کے جو ایام حیض روزہ کے دنوں میں واقع ہوئے ، ان کی قضاء اس نے نہیں کی ، اب جبکہ اس کو یہ بات معلوم ہے کہ ایسا کرنا گناہ ہے ، مگر تمام روزوں کی قضاء کرنا اس کو دشوار معلوم ہو رہا ہے ، اب میر اسوال یہ ہے کہ کیا اس پر تمام واجب القضاء روزوں کا قضاء کرنا ہی ضروری ہے ، یاوہ ان کا فدیہ ادا کر سکتی ہے ؟ راہ نمائی فرمائیں۔
۲: میں لندن میں رہتا ہوں ، اور میں مختلف موضوعات پر ایک میگزین میں مضامین لکھتا ہوں، میں نے اس بات کا ادراک کیا کہ میگزین میں کئی مذاہب و مسالک کے لوگ لکھتے ہیں جن میں سنی، شیعہ بھی ہوتے ہیں، اور قادیانی بھی ، میں نے ایڈیڈ سے استفسار کیا تو پتہ چلا کہ وہ بھی قادیانی ہے، میں ان کو کافر سمجھتے ہوئے، اس میگزین میں لکھ سکتا ہوں ؟ کیا یہ گناہ ہے ؟ اگر ہے تو اس کا کفارہ / بدلہ کیا ہے ؟
۱: سائل نے یہ نہیں لکھا کہ چُھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء اس کی بیوی پر کیوں دشوار ہیں ،تاہم اگر وہ بیماری یا کبر سنی کی وجہ سے عاجز نہ ہو تو ان تمام چُھوٹے ہوئے روزوں کی قضاء رکھنا اس پر لازم ہے اگرچہ وقفہ کے ساتھ ہو، البتہ آسانی کے لئے چھوٹے دنوں میں ان روزوں کی قضاء رکھنا مناسب ہے۔
۲۔ سائل جو مضامین اس میگزین میں لکھتا ہے اگر اس سے قادیانیت کی تائید و ترویج نہ ہوتی ہو، بلکہ جو مضامین سیاسی یا بین الا قوامی حالات کے تبصرہ پر مشتمل ہوں تو ایسے مضامین لکھنا اور ان سے اس کا معاوضہ لینا جائز اور درست ہے۔
ہاں آپ کے اس میگزین میں لکھنے سے اگر ان کی تائید ہوتی ہو یا آپ کے متعلق شکوک پیدا ہوتے ہوں تو بہتر ہے کہ کسی اور میگزین کا انتخاب کریں ۔ فقط!
كما في البحر الرائق شرح كنز الدقائق: ولذا تعلق بها خطاب الصوم لعدم الحرج إذ غاية ما تقضي في السنة خمسة عشر يوما إذا كان حيضها عشرة اھ (1/ 203)۔
كما قال الله تعالى : {وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ } [المائدة: 2]
وفي المبسوط للسرخسي: وكذلك لو أن ذميا استأجر مسلما يحمل له خمرا فهو على هذا عند أبي يوسف ومحمد - رحمهم الله - لا يجوزان العقد؛ لأن الخمر يحمل للشرب وهو معصية والاستئجار على المعصية لا تجوز اھ (16/ 38) ۔
شدید تھکن اور چکر آنے کی وجہ سے رمضان کا روزہ توڑنے کا کفارہ ادا کرنا
یونیکوڈ روزے کی قضاء و کفارہ 0