السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ! مفتی صاحب !اگر کوئی لاعلمی کی وجہ سے بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہوا ، پھر اپنے وطن واپس چلا گیا بغیر عمرہ کیے اور فوت ہوگیا ہو، تو اب اس کے لیے کیا حکم ہے ؟ کیا اس کی اولا د میں سے کوئی وہ قضاء عمرہ ان کی طرف سے ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟
ایسے شخص پر میقات سے بغیر احرام کے گزرنے کی وجہ سے عمرہ واجب ہو گیا تھا، اگر اس نے اپنی زندگی میں اس عمرہ کی قضاء کی وصیت کی ہو اور اس کے ترکہ میں سے ایک تہائی مال اس کے لیے کافی ہو، تو ورثاء پر اس کی طرف سے قضاء عمرہ کر وانا لازم ہے، اور اگر وصیت نہ کی ہو یا اس کے ترکہ کا ایک تہائی مال عمرہ کے لیے کافی نہ ہو تو ور ثاء پر عمرہ کروانا لازم نہیں ، تاہم مرحوم کے ورثاء یا کوئی اجنبی شخص مرحوم کی طرف سے قضاء عمر ہ کروادے، تو امید ہے ان شاء اللہ مرحوم اُخروی مواخذہ سے بری الذمہ ہو جائے گا۔
كما في الهندية: إذا دخل الأفاقي مكة بغير إحرام وهو لا يريد الحج والعمرة فعليه الدخول مكة إما حجة أو عمرة فإن أحرم بالحج أو العمرة من غير أن يرجع إلى الميقات فعليه دم لترك حق الميقات وإن عاد إلى الميقات وأحرم فهذا على وجهين فإن أحرم بحجة أو عمرة عما لزمه خرج عن العهدة وإن أحرم بحجة الإسلام أو عمرة كانت عليه إن كان ذلك في عامه أجزأه عما لزمه لدخول مكة بغير إحرام استحسانا اھ (٢٥٣/١)۔
و في الدر: و یشرط الأمر به أي بالحج عنه فلا يجوز حج الغير بغير إذنه إلا إذا حج) أو أحج الوارث عن مورته) اھ(٥٩٩/٢)۔