اگر کسی بھی طریقے سے جنسی لطف حاصل ہوجائے (بیوی یا کسی بھی عورت سے تعلق کے بغیر) ،مگر منی نہ نکلے تو کیاغسل واجب ہو گا؟
واضح ہو کہ جماع کے علاوہ اور طریقوں سے جنسی لطف حاصل کرنے سے اس وقت تک غسل فرض نہیں ہوتا، جب تک منی نہ نکلے، البتہ ناجائز طریقوں سے جنسی شہوت پوری کرنا گناہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔
ففی الدر المختار: في الجوهرة: الاستمناء حرام اھ (4/ 27)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله الاستمناء حرام) أي بالكف إذا كان لاستجلاب الشهوة، أما إذا غلبته الشهوة وليس له زوجة ولا أمة ففعل ذلك لتسكينها فالرجاء أنه لا وبال عليه كما قاله أبو الليث، ويجب لو خاف الزنا اھ (4/ 27)
وفی الفتاویٰ التاتارخانیة: اسباب الغسل ثلاثة: الجنابة والحیض والنفاس (إلی قوله) الجنابة یثبت بشیئین احدهما انفصال المنی عن شهوة وفی غیره (إلی قوله) والثانی الإیلاج فی الارض اھ (۱/ ۱۵۲) واللہ اعلم