جناب اگر کوئی لڑکی اپنی مرضی سے بذریعہ کورٹ خلع لیتی ہے اس کی عدت کا پیریڈ کتنا ہے ؟ دوبارہ رجوع کرنا چا ہے تو اس کیلئے کیا حکم ہے؟ اور کتنی مدت میں رجوع کیا جاسکتا ہے ؟ کیا خلع کی عدت کے دوران اپنے اس شوہر سے فون پر بات کر سکتی ہے جس سے خلع لی ہے؟
سائل نے یہ بیان نہیں کیا کہ شوہر یا اس کا کوئی وکیل عدالت میں حاضر ہوا تھا یا نہیں ؟ اسی طرح سائل نے خلع کی ڈگری کی کاپی بھی ارسال نہیں کی کہ جس کو دیکھ کر فیصلہ کیا جاسکے، تاہم بیوی کی طرف سے شوہر کی رضامندی کے بغیر لی گئی عدالتی خلع کی ڈگری کا شرعاً اعتبار نہیں، لہذا یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود بھی شرعاً میاں بیوی کا رشتہ بدستور برقرار رہتا ہے اوران کے درمیان نکاح ختم نہیں ہوتا، اس لئے عورت پر عدت بھی لازم نہیں، جبکہ میاں بیوی اپنے اختلافات دور کر کے دوبارہ میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں۔
كما في الهندية : إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية (488/1).