حیض ختم ہوجائے اور حیض کا غسل کرنے سے پہلے صحبت کرلے، تو کیا کوئی کفارہ ہے ؟
حیض کا خون اگر دس دنوں سے پہلے منقطع ہوجائے ، چاہے ایامِ عادت میں ہو یا پہلے ، ایسی صورت میں غسل کرنے یا ایک نماز کا وقت گذرنے سے پہلے عورت سے ہمبستری کرنا جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، تاہم اگر کوئی صحبت کرلیتا ہے ، تو بجز توبہ واستغفار کے اس پر کوئی کفارہ لازم نہیں ، جبکہ دس دن گزرنے کے بعد غسل کرنے سے قبل بھی صحبت کرنا جائز اور درست ہے۔
کما فی الدر المختار : (و يحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره) بلا غسل وجوبا بل ندبا اھ (1/ 294)۔
و فى الفتاوی الھندية: فإن جامعها و هو عالم بالتحريم فليس عليه إلا التوبة و الاستغفار و يستحب أن يتصدق بدينار أو نصف دينار ، كذا في محيط السرخسي (الیٰ قوله) و إذا انقطع دم الحيض لأقل من عشرة أيام لم يجز وطؤها حتى تغتسل أو يمضي عليها آخر وقت الصلاة الذي يسع الاغتسال و التحريمة ؛ لأن الصلاة إنما تجب عليها إذا وجدت من آخر الوقت هذا القدر ، هكذا في الزاهدي اھ (1/ 39)۔