جناب محترم !میں اور میری بیوی بچے عمرہ پر جانا چاہتے ہیں ، میراارادہ ہے کہ اپنی ساس جس کی عمر ساٹھ سال کے قریب ہوگئی ہے، اور ایک غیر شادی شدہ سالی کو بھی ساتھ لے جاؤں ،کیا دین میں اس کی گنجائش ہے؟
سائل کا اپنی بیوی اور ساس کو عمرہ پر لے جانا شرعًا جائز ہے، مگر سالی چونکہ شرعاً نا محرم ہوتی ہے، اسلیے اگر اس کےساتھ کوئی دوسرا محرم ِشرعی نہ ہو تو سائل کے لیے اس کو اپنے ساتھ عمرہ کے سفر پر لے جانا حائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی صحیح المسلم : عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ، تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلَاثِ لَيَالٍ، إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ» اھ (2/975)۔
و فی الہدایة: ويعتبر فی المرأة أن يكون لها محرم تحج به أو زوج ولا يجوز لها أن تحج بغيرهما إذا كان بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام اھ (1/133)۔