السلام علیکم!حضرت! ایک عورت عمرہ پر جارہی ہے مگر اس کو مسلسل خون آتا ہے رکتا نہیں بالکل بھی، وہ عمرہ کیسے کرے گی ؟
مذکور خاتون کے ہر ماہ چار دن جو اس کی عادت کے تھے وہ حیض شمار ہوں گے جبکہ بقیہ ایام استحاضہ شمار ہوں گے، چنانچہ حیض کے ایام کے علاوہ بقیہ استحاضہ کے ایام میں نماز،طواف وغیرہ عبادات بجا لا سکتی ہیں ۔
کما فی الدر المختار : (ودم استحاضة) حكمه (كرعاف دائم) وقتا كاملا (لا يمنع صوما وصلاة) ولو نفلا (وجماعا) لحديث «توضئي وصلي وإن قطر الدم على الحصير» اھ ۔
و فی الرد تحت : (قوله وقتا كاملا) ظرف لقوله دائم، الأولى عدم ذكر هذا القيد: أي قيد الدوام؛ لأنه في حكمه في الدوام وعدمه ط (قوله لا يمنع صوما إلخ) أي ولا قراءة ومس مصحف ودخول مسجد وكذا لا تمنع عن الطواف إذا أمنت من اللوث قهستاني عن الخزانة ط. مطلب في حكم وطء المستحاضة اھ (1/298)۔