السلام علیکم! مفتی صاحب میرا سوال ہے آپ سے کہ اللہ پاک اپنا دیدار نصیب نہیں کرے گا قیامت کے دن جس نے اپنی بیوی کے ساتھ پیچھے والے حصے سے ہمبستری کی ہو؟ کیا یہ بات درست ہے؟
سوال میں ذکر کردہ مضمون پرمشتمل کوئی روایت تو ہماری نظر سے نہیں گزری، تاہم ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے شخص پر شفقت اور رحمت کی نظر نہیں ڈالتا۔
کما فی مصنف ابن ابی شیبۃ: ۱۶۸۱۱ –عن أبی ہریرۃ، قال: قال رسول اللہ ﷺ: ’’لا ینظر اللہ إلی رجل جامع امرأتہ فی دبرہا‘‘۔ (ج۳، ص۵۳۰)۔
وفی سنن ابن ماجۃ: ۱۹۲۳ – عن أبی ہریرۃ، عن النبی ﷺ، قال: ’’لا ینظر اللہ إلی رجل جامع امرأتہ فی دبرہا‘‘۔ (ج۱، ص۶۱۹)۔
وفی مرقاۃ المفاتیح: (وعنہ) ای عن ابی ہریرۃ (قال: قال رسول اللہ ﷺ: ’’ان الذی یاتی امراتہ فی دبرہا لا ینظر اللہ الیہ‘‘۔ أی نظر رحمۃ (رواہ): أی البغوی (فی شرح السنۃ) ای باسنادہ۔ اھـ (ج۶، ص۳۵۰)۔ واللہ اعلم بالصواب