میرا سوال یہ ہے کہ میرے دانتوں کے مسوڑوں سے خون آتا ہے ، تو جب مجھ پر غسل فرض ہوجاتا ہے، تو میں خون کو منہ میں سے صاف کرنے کے لئے پہلے کلی کرتا ہوں ، پھر غسل کرتا ہوں، پر مسئلہ یہ ہے کہ مجھے کلی کرنے میں مشکل ہوتی ہے ، کیونکہ مجھے اس چیز کا وہم ہوتا ہے کہ میرے منہ کے اندر کہیں نہ کہیں خون رہ گیا ہے اور اگر کبھی خون نا بھی نکلا ہو تو بھی مجھے یہی وہم رہتاہے کہ کیا پتہ خون نکلا ہو ، کیا پتہ نہ نکلا ہو، پر اگر خون نکلا ہو تو ؟ بس اسی طرح کے وہم کی وجہ سے مجھے خون صاف کرنے کے لئے کلی کرنے میں بہت وقت لگ جاتا ہے اور پانی بھی ضائع ہوتا ہے اور یہ وہم مجھے غسل کرتے وقت اور وضو کرتے وقت ہوتے ہیں ، تو مہربانی کرکے مجھے یہ بتائیں کہ کیا میں خون صاف کرنے کے علاوہ صرف غسل کے لئے کلی کرکے اور ناک میں پانی ڈال کر غسل کرسکتا ہوں؟جواب ضروری دیجئے گا۔
سائل کے لئے فرض غسل کرتے وقت منہ سے خون صاف کئے بغیر فقط کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈال کر غسل کرنا کافی ہے۔
کما فی الدر المختار : (وفرض الغسل) أراد به ما يعم العملي كما مر و بالغسل المفروض كما في الجوهرة و ظاهره عدم شرطية غسل فمه و أنفه في المسنون كذا البحر ، يعني عدم فرضيتها فيه و إلا فهما شرطان في تحصيل السنة (غسل) كل (فمه) و يكفي الشرب عبا اھ(1/ 151)۔
و فی الفتاوی الھندیة : (الباب الثاني في الغسل) (و فيه ثلاثة فصول) (الفصل الأول في فرائضه) و هي ثلاثة : المضمضة و الاستنشاق و غسل جميع البدن على ما في المتون و حد المضمضة و الاستنشاق كما مر في الوضوء من الخلاصة اھ(1/ 13)۔