کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ عدالت سے خلع لیا جاسکتا ہے ؟
واضح ہو کہ خلع دیگر عقود مالی کی طرح ایک عقد ہے، جس کی صحت کیلئے فریقین کی باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے، جبکہ مروجہ عدالتی خلع میں عموما ًیہ شرط مفقود ہوتی ہے، لہذا عدالتی خلع اگر یکطرفہ ہو اور اس میں شوہر یا اسکے وکیل کی طرف سے خلع پر رضامندی ظاہر نہ کی گئی ہو تو ایسا یکطرفہ خلع شرعا ًمعتبر نہیں ہو گا، بلکہ ایسی ڈگری جاری ہونے کے باوجود نکاح بدستور قائم رہے گا۔
كما في المبسوط للسرخسی:( (قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد. اهـ ( ج ۶، ص ۱۷۳)