میر امسئلہ یہ ہے کہ قدرتی طور پر میری حیض کی کوئی تاریخ مقرر نہیں ہے ، 2 / 1 یا 2 مہینہ کے بعد ہوتا ہے کوئی تاریخ مقرر نہیں ہے ایسا میں اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہمبستری کے دوران حیض شروع ہو جاتا ہے جو کہ بعد میں پتہ چلتا ہے، پہلے کچھ نہیں ہو تا بلکہ پاک ہوتی ہوں ایسے میں کیا ہمیں گناہ ہو گا اور کیا یہ بھی حیض میں ہمبستری کرنے میں شامل ہو گا۔
پہلے سے اگر ماہواری کا علم نہ ہو بلکہ دوران مباشرت علم ہو جائے تو میاں بیوی کو فورا علیحدہ ہونا لازم ہے تا ہم اس سے وہ گناہ گار نہ ہونگے۔
كما في الدر المختار: وفي الفيض: لو نامت طاهرة وقامت حائضة حكم بحيضها من قامت وبعكسه من نامت احتياطا (291/1)
وفي بحر الرائق : فلو كانت طاهرة فرأت البلة حين أصبحت تقضيها أيضا إن لم تكن صلتها قبل الوضع إنزالا لها طاهرة في الصورة الأولى من حين وضعته (191/1)
وفي الهندية : لا يثبت حكم كل منها الا بخروج الدم وظهوره وهذا ہو ظاہر مذہب اصحابنا وعليه عامة مشايخنا وعليه الفتوى (36/1)