اگر عمرہ کی نیت کر لی جائے ، احرام باندھ لیا جائے اور ائر پورٹ پر روک لیا جائے اور گھر واپس بھیج دیا جائے ( کرونا) کی وجہ سے، تو کیا دم دینا پڑے گا ؟ اور کیا آدمی اور عورت احرام کی پابندی سے نکل آئے گا ؟ شریعت کی روشنی میں وضاحت کر کے عند اللہ ماجور ہوں۔
صورتِ مسئولہ میں جن افراد نے احرام باندھنے کے بعد عمرہ کی نیت سے تلبیہ پڑھا ہو اور اب کرونا وائرس کی وجہ سے ائر پورٹ پر روک لئے گئے اور گھر واپس بھیج دیئے گئے کہ جس کی وجہ سے ان کیلئے عمرہ کرنا ممکن نہ ہو تو ان پر احرام سے نکلنے کے لیے لازم ہے کہ کسی طرح از خود یا کسی شخص کے توسط سے بطور دم حدود حرم میں ایک جانور ذبح کرائیں، چنانچہ جانور ذبح کرانے کے بعد وہ افراد احرام کی پابندیوں سے آزاد ہو کر حلال ہو جائیں گے، تاہم بعد میں جب پابندی ختم ہو جائے تو ان لوگوں پر دوبارہ عمرہ کرنا بھی لازم ہوگا۔
ففی الدر المختار: (إذا أحصر بعدو أو مرض) أو موت محرم أو هلاك نفقة حل له التحلل فحينئذ (بعث المفرد دما) أو قيمته فإن لم يجد بقي محرما حين يجد أو يتحلل بطواف (إلی قوله) (و) يجب (عليه إن حل من حجه) ولو نفلا (حجة) بالشروع (وعمرة) للتحلل إن لم يحج من عامه (وعلى المعتمر عمرة، و) على (القارن حجة وعمرتان) إحداهما للتحلل اھ (2/ 591-593)
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله بعث المفرد) أي بالحج أو العمرة إلى الحرم قهستاني اھ (2/ 591)
وفى بدائع الصنائع: وإن كان إحرامه بالعمرة لا غير قضاها لوجوبها بالشروع في أي وقت شاء؛ لأنه ليس لها وقت معين. اھ (2/ 182)
كما في الدر المختار: (وإذا لبى ناويا) نسكا (أو ساق الهدي أو قلد) أي ربط قلادة على عنق (بدنة نفل أو جزاء صيد) قتله في الحرم أو في إحرام سابق (ونحوه) كجناية ونذر ومتعة وقران (وتوجه معها) والحال أنه (يريد الحج) وهل العمرة كذلك ينبغي؟ نعم (أو بعثها ثم توجه ولحقها) قبل الميقات، فلو بعده لزمه الإحرام بالتلبية من الميقات (أو بعثها لمتعة) أو لقران وكان التقليد والتوجه (في أشهره) وإلا لم يصر محرما حتى يلحقها (وتوجه بنية الإحرام وإن لم يلحقها) استحسانا (فقد أحرم) اھ (2/ 485)